طلال چوہدری 9

حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے،خواتین کا کردار قومی ترقی اور پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے، طلال چوہدری

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان خواتین کو بااختیار بنانے اور قومی زندگی کے ہر شعبے میں ان کی موثر شمولیت کے لیے پرعزم ہے، خواتین کو بااختیار بنانا قومی ترقی، معاشی نمو، سماجی ہم آہنگی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)اور نیشنل کائونٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا)کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس خواتین بطور امن لیڈرز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں پالیسی سازوں، سکیورٹی ماہرین، ماہرین تعلیم، سفارت کاروں، کاروباری شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی اور امن کے فروغ، انتہاپسندی کے انسداد اور قومی استحکام میں خواتین کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی صنفی تحفظ کو قومی سلامتی کا اہم جزو قرار دیتی ہے اور امن و ترقی کے لیے جامع اور شمولیتی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن ایک ایسا پاکستان ہے جہاں ہر بچی تعلیم حاصل کر سکے، ہر خاتون قیادت کے مواقع سے مستفید ہو اور ہر شہری ملک کے روشن مستقبل میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا محض ایک سماجی ہدف نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سردار طاہر محمود نے کہا کہ خواتین صرف امن سے مستفید ہونے والی نہیں بلکہ امن کی معمار، داعی اور محافظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بطور معلم، کاروباری شخصیت، پالیسی ساز، کمیونٹی لیڈر اور امن ساز معاشرے میں رواداری، سماجی ہم آہنگی اور قومی ترقی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی خواتین کی کاروباری سرگرمیوں، روزگار، قیادت اور معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن اور معاشی خوشحالی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک مستحکم، مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔ نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا جواد احمدڈوگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے جس کے لیے بین الاقوامی تعاون اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کی سفارشات مستقبل کی پالیسی سازی اور تحقیق میں معاون ثابت ہوں گی۔سابق لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر، نے کہا کہ تنازعات، دہشت گردی اور تشدد کے اثرات خواتین پر غیر متناسب طور پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اکثر متاثرین، نگہداشت فراہم کرنے والوں، بیواں اور آنے والی نسلوں کی سرپرستوں کے طور پر سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ خواتین فطری طور پر امن کی داعی ہوتی ہیں، اس لیے انہیں فیصلہ سازی، مذاکرات اور امن کے عمل میں موثر نمائندگی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے عالمی خواتین، امن اور سلامتی ایجنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قیادت اور حکمرانی کے ہر سطح پر خواتین کی شمولیت کے بغیر پائیدار امن اور سلامتی کا حصول ممکن نہیں۔نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی فیکلٹی آف کنٹیمپریری سٹڈیز کی ڈین ڈاکٹر عرشی سلیم ہاشمی نے کہا کہ خواتین کے مسائل کو صرف گھریلو تناظر میں نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی اور ترقیاتی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین صرف تنازعات کا شکار نہیں ہوتیں بلکہ تنازعات کی روک تھام، کمیونٹی کی مضبوطی اور امن کے فروغ میں ایک موثر اور سٹریٹجک کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے جنوبی ایشیا میں خواتین کی قیادت، گورننس اور سکیورٹی کے شعبوں میں شمولیت بڑھانے کے لیے مضبوط پالیسی اقدامات اور ادارہ جاتی معاونت پر زور دیا۔کانفرنس کے مختلف پینل مباحثوں میں ڈاکٹر بشری مرزا، صائمہ رحیم، ڈاکٹر نور آمنہ ملک، ڈاکٹر نور فاطمہ، نقبہ ممتاز قاضی، ڈاکٹر حمیرا شفیع، نادیہ طارق، پروفیسر ڈاکٹر روبینہ حنیف اور صائمہ احسن نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

تقریب میں آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب، نائب صدر عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران فاطمہ عظیم، شمائلہ صدیقی، وسیم چوہدری، ذوالقرنین عباسی، عمران منہاس، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، کنوینر آئی سی سی آئی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن عدنان مختار سمیت کاروباری برادری، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں