لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ کپاس کے نئے جننگ سیزن کے آغاز سے قبل ملک میں روئی کے ذخائر دس ہزار بیلز سے بھی کم رہ جانا انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، روئی کی شدید قلت کے باعث ٹیکسٹائل ملز عملاًغیر فعال ہورہی ہیں جبکہ افغانستان سے تقریباً پانچ لاکھ بیلز پاکستان نہ آنے اور خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمدات معطل ہونے سے ملکی ٹیکسٹائل صنعت سنگین بحران کا شکار ہو چکی ہے۔
انہوں اپنے بیان میں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث روئی کی قیمتیں بڑھ کر بائیس ہزار روپے فی من جبکہ موخر ادائیگی پر تئیس ہزار پانچ سو روپے فی من تک پہنچ چکی ہیں، جس کا براہِ راست اثر ملکی معیشت، برآمدات اور صنعتوں سے وابستہ لاکھوں مزدوروں پر پڑ رہا ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ پاکستان کو روئی کی ضروریات میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بیشتر کاٹن زونز میں کپاس کی بوائی شروع ہو چکی ہے مگر کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ زرعی مداخل خصوصاً ڈیزل، بجلی، زرعی ادویات اور کیمیائی کھادوں کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کسانوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمت سولہ ہزار روپے فی بیگ جبکہ یوریا کھاد ساڑھے چار ہزار روپے فی بیگ تک پہنچ جانا زرعی شعبے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگی کھادوں اور زرعی اخراجات کے باعث کسان مطلوبہ مقدار میں کھاد استعمال نہیں کر پا رہے، جس سے خدشہ ہے کہ کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیاں، پانی کی قلت، ناقص بیج اور زرعی سہولیات کی عدم دستیابی کسانوں کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہیں۔ اگر حکومت نے فوری عملی اقدامات نہ کیے تو نہ صرف کپاس کی پیداوار مزید کم ہوگی بلکہ ٹیکسٹائل صنعت کو بھی خام مال کے شدید بحران کا سامنا رہے گا۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کو سستی کھاد، بجلی اور ڈیزل فراہم کرے، زرعی قرضوں میں آسانیاں پیدا کی جائیں اور کپاس کے کاشتکاروں کے لیے خصوصی امدادی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ زراعت اور ٹیکسٹائل پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان شعبوں کو نظر انداز کرنا ملکی معیشت کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔








