کراچی (رپورٹنگ آن لائن) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے گرفتار 10 ملزمان کو رہا کردیا ،ملزمان کا نام مقدمے سے خارج کرنے اورذاتی مچلکے جمع کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں دعا زہرا کے اغوا سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس میں گرفتار 80 سالہ خاتون سمیت 12 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
گرفتارملزمان میں آصف ، مقبول احمد ،نذیر احمد ،محمد انیس ، اصغر،جہانگیر،محمدعمر،قدیر،محمد احمد ،غلام مصطفی،غلام نبی شامل تھے۔ پولیس کی جانب سےگرفتار ملزمان میں بزرگ خاتون فدا بی بی بھی شامل تھیں۔ عدالت نے پولیس حکام سے استفسار کیا کہ کیس کا مرکزی ملزم ظہیر کہاں ہے۔ ڈی ایس پی شوکت نے عدالت کو بتایا کہ میں تفتیشی افسر نہیں ہوں اور ان کی طبیعت خراب ہے۔ مدعی مقدمے کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ لڑکی کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کرایا گیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ لاپتہ ہونے کےبعد ظہیر سب سے پہلےدعا کو خاتون کےگھر لےکرآیا تھا اورظہیرنے خالہ کے موبائل سے ٹیلی فون کال کی تھی۔ پولیس نےعدالت کو بتایا کہ کال ریکارڈ کے ذریعے ملزمان کوگرفتارکیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں ظہیرکے رشتہ دار اور جاننے والے شامل ہیں۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے ظہیر کے ساتھ مختلف نوعیت کا تعاون کیا تھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے گرفتار 10 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ملزمان کا نام مقدمے سے خارج کرنے اورذاتی مچلکے جمع کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ عدالت نے تفتیش میں ضرورت پڑنے پر ملزمان کو پولیس سے تعاون کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے نکاح خواں غلام مصطفی اورگواہ علی اصغر کوعدالتی ریمانڈ پرجیل بھیج دیا۔









