لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے بلوچستان میں ایک اور دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں اور یہ صورتحال قومی سلامتی، معاشی استحکام اور عوام کے اعتماد کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، حکومت کی اولین آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا ہر صورت تحفظ یقینی بنائے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حالات میں عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات، سیکیورٹی اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کی شہادتیں پوری قوم کے لیے باعثِ صدمہ ہیں۔ جماعت اسلامی دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر قسم کی مذمت کرتی ہے اور شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ صرف فوجی کارروائیوں سے نہیں بلکہ قومی اتحاد، مؤثر پالیسی، مضبوط انٹیلی جنس نظام اور تمام ریاستی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی سے ہی ممکن ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ دشمن قوتیں، بالخصوص بھارت اور اسرائیل، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں۔
ان کے مذموم عزائم کا مقصد ملک میں انتشار، خوف اور بدامنی کو فروغ دینا ہے تاکہ پاکستان داخلی طور پر کمزور ہو جائے۔ ایسے حالات میں قومی یکجہتی، سیاسی ہم آہنگی اور ریاستی اداروں کے درمیان باہمی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہنگامی بنیادوں پر مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے تاکہ دہشت گردی کے اس ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی نے مطالبہ کیا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے واضح، مؤثر اور دیرپا حکمت عملی اختیار کرے، سیکیورٹی اداروں کو ضروری وسائل فراہم کیے جائیں، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک محفوظ، پرامن اور مستحکم پاکستان ہی ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔








