ہائیکورٹ 7

حماد اظہر سے فیملی، وکلاء کی ملاقات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

لاہور( رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما و سابق وفاقی وزیر میاں حماد اظہر سے فیملی اور وکلاء کی ملاقات کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حماد اظہر کی والدہ کی درخواست پر سماعت کی ۔

وکیل ابوذر سلیمان نیازی نے موقف اپنایا کہ اے ٹی سی جج نے فیملی اور وکلاء سے ملاقات کی درخواست خارج کی ، اے ٹی سی جج نے درخواست گزار کو پولیس سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ۔ پولیس والے تو ہمیں تھانے کے اندر داخل نہیں ہونے دیتے ۔وکیل درخواست گزار کے مطابق حماد اظہر کا 20روز ریمانڈ دیا گیا ہم نے اس ریمانڈ کو چیلنج کرنا ہے ، ملاقات نہ ہونے سے وکالت نامے پر دستخط نہیں ہورہے ، ہمارا آئینی حق مجروح ہو رہا ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ وکالت نامے پر دستخط کے لئے آپ نے سپریٹنڈنٹ جیل کو درخواست دی ہے؟ ۔

جس پر وکیل ابوذر سلیمان نیازی نے بتایا کہ ملزم جیل نہیں بلکہ پولیس کی کسٹڈی میں ہے ۔ جسٹس شہباز رضوی نے کہا کہ جی سرکاری وکیل صاحب آپ بتائیے کیا کہتے ہیں ۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملزم ایک سیاسی شخصیت ہے ، روزانہ 50لوگ ملتے ہیں جن 5کو اجازت نہیں ملتی وہ متاثرہ بن جاتے ہیں ۔ ارسلان نامی شخص کتابیں بھی دے کر آیا ہے ۔ریمانڈ کو چیلنج کرنے کے لئے وکالت نامے کے ساتھ بائیو میٹرک کی بھی ضرورت ہے ، پولیس کسٹڈی میں موجود ملزمان کو بائیو میٹرک کی سہولت میسر نہیں ۔

جسٹس شہباز رضوی نے کہا کہ تو آپ یہ کہہ رہے کہ ریمانڈ چیلنج نہیں ہوسکتا؟ ۔ جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ نہیں میرا مطلب یہ نہیں ہے بلکہ یہ پولیس کو درخواست دیں ۔جسٹس شہباز رضوی نے کہا کہ مطلب کیا آپ نے خود بیان دیا ہے کہ بائیو میٹرک نہیں ہوسکتی ، اس لحاظ سے تو پھر انکی درخواست پھر ٹھیک لگ رہی ہے ۔بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں