اعظم نذیر تارڑ 9

جو قومیں تعلیم، سائنسی تحقیق اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، مستقبل کی قیادت بھی وہی کرتی ہیں، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جو قومیں تعلیم، سائنسی تحقیق اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، مستقبل کی قیادت بھی وہی کرتی ہیں، مسلم دنیا کو ترقی، خود انحصاری، پائیدار مستقبل اور مشترکہ خوشحالی کے حصول کے لیے علم، تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی پر مبنی مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، جبکہ معیاری تعلیم ہر فرد کا بنیادی انسانی حق ہے اور یہی پائیدار ترقی، مضبوط اداروں اور بااختیار معاشرے کی بنیاد ہے ۔ وہ بدھ کو اسلام آباد میں او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کے زیر اہتمام منعقدہ بین الاسلامی فورم برائے تعلیم، سائنسی تحقیق اور جدت سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔

فورم میں او آئی سی کے اداروں کے نمائندگان، مختلف اسلامی ممالک کے سفراء ، کینیا کے منڈیرا کاؤنٹی کے گورنر محمد عدن خلیف، ملائیشیا کے سینیٹر توان جزیری الکاف، کامسٹیک کے اعزازی مشیر پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود، بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر وائس ایڈمرل (ر) عابد حمید، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، ممتاز سائنسدانوں، محققین، ماہرین تعلیم، اسکالرز اور او آئی سی کے رکن ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے وفاقی وزیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کو نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی کامیاب میزبانی اور آئندہ دو برسوں کے لیے اس کی چیئرمین شپ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اسلام کے شاندار علمی ورثے اور ”علمِ نافع”کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت مسلم دنیا کی سماجی و معاشی ترقی کی بنیاد ہیں۔

انہوںنے کہاکہ علم کو انسانیت کی خدمت اور عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ کامسٹیک سکالرشپس، فیلوشپس، تحقیقی اشتراک، استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں اور کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسیلینس کے ذریعے او آئی سی کے رکن ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے تحقیقی تعاون، جدت اور سائنسی استعداد میں اضافے کے لیے کامسٹیک کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ اپنے خطاب میں وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تعلیم صرف ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق بھی ہے۔ تعلیم خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بناتی، مساوی مواقع فراہم کرتی، اداروں کو مضبوط کرتی اور مستقبل کے سائنسدانوں، موجدوں، کاروباری رہنماؤں اور قائدین کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین انسانی وقار، مساوات اور تعلیم کے فروغ کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے معیاری تعلیم تک رسائی آئینی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا بھی تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کو موجودہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون، سائنسی تحقیق، اختراع، جدید ٹیکنالوجی، تعلیمی تبادلوں اور انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ جو ممالک تعلیم، تحقیق اور انسانی سرمایہ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، وہی مستقبل میں عالمی قیادت کے منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کامسٹیک کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری کی قیادت میں ادارے نے ہزاروں طلبہ، محققین اور سائنسدانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے سائنسی تعاون، تحقیقی اشتراک، تعلیمی تبادلوں، استعداد کار میں اضافے کے پروگراموں اور نوجوان سائنسدانوں کی معاونت کو کامسٹیک کی نمایاں کامیابی قرار دیا۔

انہوں نے فلسطین، یمن، بنگلہ دیش، افریقی ممالک اور دیگر مشکل حالات سے دوچار اسلامی ریاستوں کے طلبہ اور محققین کے لیے کامسٹیک کی سکالرشپس، تحقیقی پروگراموں اور تعلیمی معاونت کو اسلامی یکجہتی، اخوت اور باہمی تعاون کی عملی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات مسلم دنیا کے مشترکہ مستقبل کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کے او آئی سی کے اندر کردار کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی کامیاب میزبانی کی ہے اور آئندہ دو برسوں کے لیے اس کی چیئرمین شپ بھی سنبھالی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق، خواتین کو بااختیار بنانے، تعلیم، سائنسی تعاون اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

کینیا کے گورنر محمد عدن خلیف اور ملائیشیا کے سینیٹر توان جزیری الکاف نے اپنے خطابات میں مسلم ممالک کے درمیان تعلیمی روابط، مشترکہ سائنسی تحقیق، اختراعی نظام اور علمی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کاوشوں کے ذریعے ہی او آئی سی ممالک پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔ کامسٹیک کے اعزازی مشیر پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علم پر مبنی معیشت، مضبوط تحقیقی اداروں، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی اشتراک کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈریم ٹیم سی بی او کی بانی و سرپرست ڈاکٹر سلمیٰ نور نے نوجوانوں اور خواتین کو تعلیم، تحقیق اور جدت کے ذریعے بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے نوجوان نسل کو جدید مہارتوں اور اختراعی سوچ سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے۔

بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر وائس ایڈمرل (ر) عابد حمید نے فورم کے کامیاب انعقاد پر کامسٹیک کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جامعات، حکومتوں، صنعت اور تحقیقی اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی مسلم دنیا میں سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ فورم کے اختتام پر او آئی سیـکامسٹیک کے فوکل پرسن برائے آؤٹ ریچ، سی سی او اینڈ میڈیا مرتضیٰ نور نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی جبکہ شرکاء نے تعلیم، سائنسی تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور گروپ فوٹو بھی بنوائی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں