ہائیکورٹ 15

ہائیکورٹ نے بیرون ملک بھجوانے کے نام پر فراڈ کیس کے ملزم کی ضمانت منظور کر لی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر شہریوں سے رقوم ہتھیانے کے مقدمے میں نامزد ملزم شاہد حمید کی درخواست ضمانت منظور کرلی جبکہ عدالت نے ایف آئی اے فیصل آباد کے ایس ایچ او اجمل کی معطلی کا سابقہ حکم بھی واپس لے لیا۔جسٹس محمد امجد رفیق نے درخواستِ ضمانت پر سماعت کی، جس میں ملزم کی جانب سے چوہدری محمد یاسین زاہد ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ ایف آئی اے کی نمائندگی ڈپٹی ڈائریکٹر محمد طارق اور دیگر افسران نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے ہمراہ کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ ملزم شاہد حمید کے خلاف کیا ٹھوس شواہد موجود ہیں اور کیا متاثرہ فہیم اور ملزم کے درمیان ہونے والی مبینہ وائس چیٹ کا ٹرانسکرپٹ ریکارڈ پر پیش کیا گیا ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے رپورٹ پیش کیے جانے پر عدالت نے غیر متعلقہ ٹرانسکرپٹ جمع کرانے پر برہمی کا اظہار کیا۔ ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پیش کیا گیا ٹرانسکرپٹ شاہد حمید سے نہیں بلکہ ایک دوسرے ملزم احمد سے متعلق ہے۔

عدالت نے مزید دریافت کیا کہ آیا متاثرہ فہیم نے شاہد حمید کو مقدمے میں نامزد کیا ہے، جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ اس حوالے سے ان کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔جسٹس محمد امجد رفیق نے ریمارکس دیئے کہ اگر متاثرہ نے ملزم کو نامزد نہیں کیا اور متعلقہ دستاویزات بھی موجود نہیں تو استغاثہ کس بنیاد پر ملزم کی شمولیت کا دعویٰ کر رہا ہے۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ گزشتہ سماعت پر متاثرہ اور ملزم کے درمیان مبینہ وائس چیٹ کا ٹرانسکرپٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

سماعت کے دوران ایف آئی اے نے بتایا کہ مقدمے میں ملزم کا بیٹا احمد شاہد مبینہ طور پر ملوث ہے اور اس کے قبضے سے موبائل فون برآمد کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق احمد شاہد دیگر افراد کے ساتھ مل کر ایک نیٹ ورک چلا رہا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ استغاثہ کی جانب سے ملزم کے کردار سے متعلق دعوے تو کیے جا رہے ہیں مگر ان کی تائید میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے ملزم شاہد حمید کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں