کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے جونیئر ٹیچرزکی او پی ایس پرہیڈماسٹر کی پوسٹ پر تقرری کیخلاف درخواست پرچیف سیکرٹری سندھ کو سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔
عدالت نے محکمے میں ایڈیشنل، اور پی ایس اور ایکٹنگ چارج دینے پراظہار برہمی کرتے ہوئے سندھ حکومت کی جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا مسترد کردی۔سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں جونیئرٹیچرز کی او پی ایس پر ہیڈ ماسٹر کی پوسٹ پر تقرری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ملک الطاف جاوید ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے او پی ایس پر عہدوں پر تقرریوں کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے۔
محکمہ تعلیم نے سینئر اساتذہ کے باوجود جونیئر ٹیچرز کو ہیڈ ماسٹرز کے عہدوں کا چارج دے دیا ہے۔سینئر اور اہل اساتذہ کے باوجود جونیئرز کو ہیڈ ماسٹر تعینات کرنا خلاف قانون ہے۔عدالت نے محکمے میں ایڈیشنل، اور پی ایس اور ایکٹنگ چارج دینے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2014 اور 2018 میں او پی ایس ، ایڈیشنل اور ایکٹنگ چارج دینے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔عدالتی احکامات کے باوجود اصل امیدوار کے بجائے ایڈیشنل چارج دینا خلاف قانون ہے ۔
سندھ ہائی کورٹ نے چیف سیکرٹری سندھ کو سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل طور پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اعلی عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمدکو یقینی بنایا جائے ۔عدالت نے سندھ حکومت کی جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا مسترد کردی۔فریدہ شمسہ، عبدالباسط اور دیگرنے او پی ایس پر ہیڈ ماسٹر کی تقرری کو چیلنج کررکھا ہے۔سندھ حکومت نے سیکرٹری لیبر کو ورکرز ویلفیئر بورڈ کا 11 ماہ سے ایڈیشنل سیکرٹری کا چارج بھی دے رکھا ہے۔









