ملک محمد احمد خان 10

جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں یا نہیں، اس کا جائزہ لینا ہوگا’ ملک محمد احمد خاں

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں یا نہیں، اس کا جائزہ لینا ہوگا،آئین میں اختیارات منتخب نمائندوں کو دینے کی بات واضح ہے، بلدیاتی نظام کو موثر اور بااختیار بنانا ہوگا۔ انہوں نے لاہور میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ قیام پاکستان سے اب تک آئین پر کس حد تک عملدرآمد ہوا اور کیا جمہوریت کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچ پا رہے ہیں۔

جمہوری نظام کا مقصد صرف انتخابات کا انعقاد نہیں بلکہ عوام کو اختیارات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ہے، اس لیے اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ عام شہری کو جمہوریت سے کیا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ آئین کے ابتدائی حصے میں واضح کیا گیا ہے کہ انتظامی اختیار منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہونا چاہیے تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ منتخب نمائندہ صرف وزیراعظم یا وزیراعلیٰ ہے یا نچلی سطح پر موجود منتخب بلدیاتی نمائندہ بھی اس کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گراس روٹ لیول پر منتخب بلدیاتی نمائندے موجود ہوں تو انتظامی ڈھانچے میں ڈپٹی سیکرٹری اور چیف سیکرٹری جیسے عہدوں کے کردار اور اختیارات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کی بہت سی بنیادیں برطانوی دور سے چلی آ رہی ہیں، اس لیے وقت کے ساتھ ان کے کردار اور افادیت پر بھی غور ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں وفاق اور الیکشن کمیشن کے اختیارات اور طریقہ کار واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں تو پھر مقامی سطح پر اختیارات اور نظام کے حوالے سے بات کرنا شجر ممنوعہ کیوں بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں لوڈشیڈنگ طویل عرصے سے عوام کا اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے، ماضی میں 18،18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہونے کے باوجود آج بھی کئی علاقوں میں آٹھ، آٹھ گھنٹے بجلی کی بندش عوام کے لئے مسئلہ ہے۔

ایسے بنیادی مسائل کا حل مقامی حکومتوں کو موثر اور بااختیار بنانے سے بھی جڑا ہوا ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے موجودہ لوکل گورنمنٹ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو انتہائی کمزور اور مفلوج بلدیاتی نظام دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دیہات میں رہنے والے لوگوں کو جمہوریت کے ثمرات کس حد تک حاصل ہوئے ہیں اور جن لوگوں کے نام پر جمہوریت کا نظام قائم کیا جاتا ہے، کیا انہیں اس کے فوائد بھی مل رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری نظام کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کے ثمرات عام شہری، خصوصا نچلی سطح پر رہنے والے لوگوں تک کس حد تک پہنچتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں