لاہور (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کے لئے کامیابی جمہوریت میں ہے، ہائبرڈ نظام میں نہیں،اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے، مقامی حکومتوں کے لئے این ایف سی میں 30فیصد حصہ مختص کیا جائے،وسائل اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔
انہوں نے لاہور میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کو ایسے شدید خطرات لاحق ہیں جن کا ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے، سب سے خطرناک صورتحال یہ ہے کہ نوجوانوں کا ملک کے مستقبل سے یقین اٹھ جائے اور ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں،ملک کے فیصلے عوام کو کرنے دیئے جائیں اور نظام کس نے چلانا ہے اس کا اختیار بھی عوام کو دیا جائے ۔دنیا کے کامیاب ممالک کی بنیاد جمہوریت پر ہے اور پاکستان کے لئے بھی کامیابی جمہوری نظام میں ہے، ہائبرڈ نظام میں نہیں۔ جب تک سیاستدان ایک دوسرے سے دست و گریباں رہیں گے ملک آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں مختلف ادوار میں فوجی مداخلت کو فروغ بھی دیتی رہی ہیں اور اس سے فائدہ بھی اٹھاتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے جو عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اسد عمر نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں وسائل کے استعمال میں وفاق کا حصہ 15فیصد، صوبوں کا 25فیصد جبکہ مقامی حکومتوں کا حصہ 60فیصد ہے جبکہ پاکستان میں وفاق 65فیصد، صوبے 30فیصد اور مقامی حکومتیں 5فیصد سے بھی کم وسائل استعمال کرتی ہیں۔ اس تقسیم کے باعث صاف پانی سمیت عوام کے بنیادی مسائل موثر طور پر حل نہیں ہو سکتے۔اسد عمر نے تجویز دی کہ وفاق اور صوبوں کے علاوہ مقامی حکومتوں کے لئے بھی این ایف سی ایوارڈ میں 30 فیصد حصہ مختص کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا نظام اس وقت زیادہ تر کاغذوں تک محدود ہے، اگر یہ نظام حقیقی معنوں میں نافذ ہو تو ملک بھر میں 80ہزار سے ایک لاکھ تک منتخب نمائندے سامنے آ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 700منتخب ارکان صوبائی اسمبلی اور تقریباً 200ارکان قومی اسمبلی کے پاس بھی براہ راست انتظامی اختیارات نہیں جبکہ عملی اختیارات ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کے پاس ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ جب تک انتخابات کے نتائج سے متعلق تنازعات اور فارم 47کے ذریعے حکومتیں بننے کا سلسلہ جاری رہے گا، پاکستان ترقی نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کو فیصلہ سازی میں حقیقی اختیار، وسائل اور نمائندگی دینے کے لئے سیاسی اور آئینی نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔









