سندھ ہائیکورٹ 73

جب پابندی لگانی ہی تھی تو پورے شہر میں لگاتے،یہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے جسکی وجہ سے مشکلات ہیں،سندھ ہائیکورٹ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے شہر کے مرکزی شاہراہوں پر چنگچی رکشوں پر پابندی کیخلاف درخواست پرریماکس دیئے ہیں کہ آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ دیں تاکہ کاروائی کو آگے بڑھایا جاسکے، جب پابندی لگانی ہی تھی تو پورے شہر میں لگاتے۔ یہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے جسکی وجہ سے مشکلات ہیں۔

بدھ کوسندھ ہائیکورٹ میں شہر کے مرکزی شاہراہوں پر چنگچی رکشوں پر پابندی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ وکیل سرکار نے موقف دیا کہ ہماری جانب سے اس حوالے سے کمیٹی بنادی گئی ہے جو اعتراضات کو دیکھے گی۔ ان رکشوں کی وجہ سے ٹریفک کا نظام مشکلات کا شکار ہے۔ کچھ مقامات پر پابندی لگائی گئی تھی ہر جگہ پابندی نہیں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب پابندی لگانی ہی تھی تو پورے شہر میں لگاتے۔

یہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے جسکی وجہ سے مشکلات ہیں۔ اگر ہم نے اس حوالے سے کوئی حکم دے دیا تو آپ لوگوں کے لئیے مشکل ہو جائے گا۔ بہتر یہی ہے تمام لوگوں کے ساتھ مذاکرات کرکے معاملے کو حل کریں۔ آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ دیں تاکہ کاروائی کو آگے بڑھایا جاسکے۔ عدالت نے سماعت 3 ہفتوں کے لئیے ملتوی کردی۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے سندھ حکومت، کمشنر کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ و دیگر کو نوٹس جاری کئے تھے۔

گذشتہ سماعت پر درخواستگزار کے وکیل صلاح الدین گنڈاپور ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا تھا کہ سندھ حکومت نے کمشنر کراچی کے ذریعے ابتدائی طور پر 12 روٹس پر چنگچی رکشوں پر پابندی عائد کی۔ بعد ازاں نوٹیفکیشن میں ترمیم کرکے 30 روٹس کو بند کردیا گیا۔ پابندی عائد کرنے سے قبل متاثرہ فریق سے مشاورت نہیں کی گئی۔ شہر بھر میں 60 ہزار چنگچی رکشے چلتے ہیں۔ پابندی سے چنگچی رکشہ چلانے والے غریب شہری متاثر ہورہے ہیں۔ قوانین میں ترمیم کے بعد پابندی کا اختیار کمشنر کراچی کے بجائے بلدیاتی نمائندوں کا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں