اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن ) تحریک انصاف نے عمران خان کے فون ٹیپنگ کے معاملہ پر سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لےنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز ہرروزحکومت میں مداخلت کرتی ہیں،مریم نواز سزایافتہ ہیں، انہیں سرکاری دستاویز دکھارہے ہیں، عمران خان کے خلاف کرپشن کچھ نہیں ملارہا تو فیملی کو ٹارگٹ کررہے ہیں، کس نے ایک کردار ادا کیا، سب واضح طور پر نظر آرہا ہے ۔
آئی ایم ایف سمیت کوئی بھی اس حکومت کو امداد دینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ سب کو پتہ ہے کہ قوم امپورٹڈ حکومت کو مسترد کیا ہے،قوانین میں تبدیلی کرکے 1100ارب کا فائدہ لیا، موجودہ حکومت نے خود کو این آر او ٹو دیا ہے، ایک طرف پیسے نہیں جبکہ دوسری طرف اینٹی کرپشن قانون لانے کو تیار نہیں،یاز صادق کو 2پلا ٹ ملے ہیں، کیا ایاز صادق بھی عثمان بزدار کے ساتھ ملک کر کام کررہے تھے ، حکومت پہلے فرح بی بی کے خلاف مقدمہ بنائے تاکہ وہ آکر سامنا کریں،خواجہ آصف کے ساتھ 72سال کی عمرمیں حادثہ ہوا ہے ، عشق میں ناکامی پر خواجہ آصف ایسی باتیں کرجاتے ہیں، پیر کواسلام آباد میں فواد چوہدری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف شیریں مزاری نے کہا کہ 1997میں سپریم کورٹ کورٹ نے فون ٹیپنگ کے خلاف فیصلہ دیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے آفیشل اور ان آفیشل فون ٹیپنگ سے منع کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے بار فیصلہ دیا کہ فون ٹیپنگ جرم ہے ، 2015میں ثاقب نثار کے دور میں پتہ چلا کہ فون ٹیپنگ ہورہی ہے ۔ سپیریم کورٹ نے کہا تھا کہ فون ٹیپنگ ہر گز نہیں ہونی چاہیئے ،سوال یہ ہے کہ فون ٹیپنگ کیوں ہورہی ہے؟انہوں نے کہا چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے گھر کافون ٹیپ کیا گیا ، فون ٹیپنگ پر سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے سینئر صحافی کے وی لاگ کا حوالہ بھی دیا جس میں سینئر صحافی نے کہا کہ ایک اور آڈیو لیگ آئے گی ۔
اگر وہ آڈیو لیگ ہوگی تو قانون کی خلاف ورزی ہویگ ۔ جب اسلام آباد میں جلسہ تھا اسی وقت پورے ملک میں جلسے ہوئے ، یہ تباہی کی طرف جارہے ہیں۔ اور آئی ایم ایف میں پھنس گئے ہیں۔ شیریں مزاری نے کہا آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کرپشن کے حوالے سے قانون ٹھیک کریں۔ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ کرپشن پر احتساب کرو ۔آپ مزید سیاسی بحران کیوں بڑھا رہے ہیں۔ الیکشن کی تاریخ دیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز ہرروزحکومت میں مداخلت کرتی ہیں۔ مریم نواز سزایافتہ ہیں۔ انہیں سرکاری دستاویز دکھارہے ہیں، عمران خان کے خلاف کرپشن کچھ نہیں ملارہا تو فیملی کو ٹارگٹ کررہے ہیں۔ کس نے ایک کردار ادا کیا ۔ سب واضح طور پر نظر آرہا ہے ۔
آئی ایم ایف سمیت کوئی بھی اس حکومت کو امداد دینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ سب کو پتہ ہے کہ قوم امپورٹڈ حکومت کو مسترد کیا ہے، ملکی حالات بہت برے ہیں اور تین ماہ میں ریزرو آدھے ہوگئے ۔ جب عمران خان وزیراعظم تھے اسو قت سیکورٹی لائن کی ٹیپنگ ہورہی تھی۔ عمران خان کو ہٹانے میں امریکا کو اپنے مفادات تھے ،عمران خان نے امریکا کو ا بسلوٹلی ناٹ کہا تھا ۔ امریکا نے کہا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے ،امریکا بھارت کو ملا کر ایل او سی پر مداخلت کرائے گا ۔یاد رکھیں قوم امریکا کی سازش کو نہیں بھولے گی ۔
اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ نیب کے قوانین میں تبدیلی کرکے 1100ارب کا فائدہ لیا۔ موجودہ حکومت نے خود کو این آر او ٹو دیا ہے ۔ ایک طرف پیسے نہیں جبکہ دوسری طرف اینٹی کرپشن لاءلانے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہا فرح بی بی پر الزامات لگائے گئے، کہا گیا کہ فرح بی بی کی ریڈوارنٹ جاری کررہے ہیں۔ آپ نے فرح بی بی پر مقدمہ بنایا نہیںریڈوارنٹ کیسے جاری کریں گے ۔ پہلے ان کے خلاف مقدمہ تو بنائیں تاکہ وہ آکر سامنا کریں۔ کہا گیا کہ احسن جمیل گجر اور فرح نے ایک پلاٹ لیا اسی جگہ پر ایاز صادق کو 2پلا ٹ ملے ہیں۔
کیا ایاز صادق بھی عثمان بزدار کے ساتھ ملک کر کام کررہے تھے ۔ کیا ایازصادق اور احسن جمیل گجر بھی آپس میں پارٹنرز ہیں؟ انہوں نے کہا کہ دیکھنا پڑے گا کہ ایاز صادق اور سب لوگ پارٹنر شپ پر چل رہے ہیں خواجہ آصف نے ٹویٹ کیا کہ پی ٹی آئی نے ڈونلڈلو سے معافی مانگی ہے ، پرسوں عمران خان کے مجمع کے سامنے پالیسی بیان دے رہا تھا اس وقت آپ بہرے تھے ۔ امریکا ،روس اور چین سمیت تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی ملک بتائے کہ کون حکومت کرے گا۔ آپ کا وزیراعظم سعودی عرب جاتا ہے ۔ پھر کہتا ہے کہ مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ، اوورسیز کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ، جب شہبازشریف وزیراعظم ہو، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فون ٹیپ ہورہے ہیں۔
اس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب الیکشن میں پہلے نمبر پاکستان تحریک انصاف دوسرے نمبر آزادامیدوار اور پھر ن لیگ ہوگی ،فواد چوہدری نے کہا کہ خواجہ آصف کے ساتھ 72سال کی عمرمیں حادثہ ہوا ہے ، عشق میں ناکامی پر خواجہ آصف ایسی باتیں کرجاتے ہیں۔ خواجہ آصف کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو سامنے لائیں ۔ انہوں نے کہا میں فرح خان کا دفاع نہیں کررہا یہ کیس کیوں نہیں کرتے ،عمران خان اور کابینہ نے کہا تھا کہ سائفر پر کمیشن بنانا چاہیے۔ فوادچوہدری کا مزید کہنا تھا کہ معاملے پرآزادانہ تحقیقات کریں، صحیح اور غلط سامنے آجائے گا ۔









