سہیل آفریدی 7

ایک طرف پٹرول مہنگا، دوسری طرف قرضے لے کر ملک چلایا جا رہا،سہیل آفریدی

پشاور(رپورٹنگ آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ایک طرف پٹرول مہنگا، دوسری طرف قرضے لے کر ملک چلایا جا رہا ہے۔صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ انتہائی افسوسناک ہے، جس کا براہِ راست بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کہ ملک میں مہنگائی کے باعث غریب، مڈل کلاس اور سفید پوش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس واضح پالیسی نہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے مطابق 74 سال میں 43 ہزار ارب روپے قرضہ لیا گیا، جبکہ موجودہ حکومت نے پانچ سال میں قرضوں کا حجم 97 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا، جس کا بوجھ بالآخر عوام کو اٹھانا پڑے گا۔اُن کا پنجاب کی وزیراعلیٰ کے حالیہ بیان پر بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفادات کو نقصان پہنچانا قابل افسوس ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات صرف ایک صوبے نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے بیانیے کے خلاف ہیں، پاکستان مخالف بھارتی بیانیے کو دنیا میں پذیرائی ملنے کی ایک وجہ ایسے بیانات بھی ہیں۔سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کے خلاف وفاقی وزراء کے بیانات کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام اور حکومت میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ان کے ساتھ کِیا کیا جا رہا ہے اور کیا خیبرپختونخوا کو پاکستان کا حصہ سمجھا جاتا ہے؟

اُن کا کہنا تھا کہ ایک ادارے کا ڈی جی صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف ویڈیوز چلا کر پریس کانفرنسز کرتا ہے جبکہ دوسری جانب عدلیہ کا جج کمنٹس پاس کرتا ہے، یہ صورتحال ملک کو کس سمت لے جا رہی ہے؟انہوں نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ہے، چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب پر مبنی رویہ نفرتوں میں اضافہ کرے گا جو پاکستان اور اداروں کے لیے اچھا نہیں، خیبرپختونخوا حکومت عوامی مفادات میں بہترین سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

صوبے کی مالی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال 130 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے سے زائد جمع کیے گئے، جبکہ رواں مالی سال 180 ارب روپے کا ہدف مقرر ہے۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خبیر پختونخوا میں نیا ٹیکس عائد کیے بغیر 200 ارب روپے سے زائد ریونیو جمع کیا جائے گا، یہی حقیقی عوامی خدمت اور عوامی مفادات کا تقاضا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ غیر متعلقہ افراد حکومتی اور محکمانہ امور میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں اور افسران کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، این ایل سی کے سی اینڈ ڈبلیو منصوبوں میں ناقص کارکردگی اور کام نہ کرنے کی بنیاد پر بطور سپیشل اسسٹنٹ کچھ کنٹریکٹس منسوخ کیے گئے تھے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبوں میں شفافیت کا دفاع کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مکمل سکروٹنی کے بعد صرف میرٹ اور مکمل دستاویزات رکھنے والی کمپنیاں ہی کوالیفائی ہوئیں، جبکہ نامکمل کاغذات، جعلی بینک گارنٹی یا سفارش کی بنیاد پر آنے والی کمپنیوں کو ڈس کوالیفائی کیا گیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ بانی پی ٹی آئی اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، اس لیے غلط کام یا میرٹ کے خلاف جانے کی کوئی گنجائش نہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ میرٹ اور شفافیت پر پورا اترنے والی کمپنی کو کنٹریکٹ ملنے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم غلط طریقے سے کنٹریکٹ حاصل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے افسران میرٹ، شفافیت، گڈ گورننس اور سروس ڈلیوری کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں۔سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وہ اپنی کابینہ اور افسران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور افسران کو ڈرانے یا دھمکانے والوں کے خلاف آخری حد تک کھڑے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں