ایوان بالا 31

ایوان بالا میں عابد شیر علی اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین شدید تلخ کلامی، اجلاس پیر تک ملتوی

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن ) ایوان بالا میں حکمران جماعت کے سینیٹر عابد شیر علی اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین شدید تلخ کلامی کے بعد اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدرات منعقد ہوا، اجلاس کے دوران 9 قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس اور مختلف بلز ایوان میں پیش کیے گئئے۔

سینیٹ نے اقبال اکیڈمی ترمیمی بل 2026 کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے عابد شیر علی نے کہا کہ ایک دور تھا جب دیگر ممالک کے سربراہان ہمارے وزیراعظم کا فون نہیں اٹھاتے تھے اور آج امریکی نائب صدر پاکستان آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کی طرف سے ہماری مسلح افواج پر حملے کئے جاتے ہیں، مولانا عطا الرحمان کو افغانستان سے ہونے والے حملوں کی مذمت کرنی چاہئے، ہماری مسلح افواج نے بھارت کو جو سبق سکھایا ان کی سات نسلیں یاد رکھیں گی۔قبل ازیں جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایک عالم دین مولانا محمد ادریس کو بے دردی سے قتل کیا گیا، قاتل اتنے ایکسپرٹ تھے کہ شہادت صرف مولانا کے حصے میں آئی تاہم دیگر لوگ صرف زخمی ہوئے، ہر ہفتے ہمارے ہاں کوئی ناکوئی دلخراش واقعہ ہوتا ہے۔

مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ ہم نے مولانا ادریس کی شہادت پر احتجاج کا اعلان کیا تو انتظامیہ نے روکا، ہم نے کہا آپ ہمیں مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے، پی ٹی آئی سے بھی گلہ ہے کہ 13 سال سے صوبے میں ان کی حکومت ہے، ہم اس صوبے میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح مرکزی حکومت نااہل ہے اسی طرح پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بھی حق حکمرانی کھو چکی ہے، ملک و قوم پر رحم کریں، ہم مزید یہ سہنے کو تیارنہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں