واشنگٹن(رپورٹنگ آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا اور ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا۔
جی-7 ممالک کے سربراہان کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہتی تو دنیا کو 1929 کی عظیم کساد بازاری جیسی سنگین معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ان کے بقول عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور اس کی بندش کے عالمی معیشت پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھل گئی، جس سے عالمی منڈیوں میں استحکام آیا، اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوتا تو آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے کی ضمانت دینا ممکن نہ تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے سفارتی اور اسٹریٹجک اقدامات جاری ہیں، ان کے مطابق خطے میں کشیدگی میں کمی اور توانائی کی بلاتعطل فراہمی نے عالمی منڈیوں کا اعتماد بحال کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس سے مختلف ممالک کی معیشتوں اور صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے، توانائی کی منڈیوں میں استحکام عالمی اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے اور امریکا اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی معیشت کو ممکنہ بحران سے بچانے میں مدد ملی۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے، اس لیے اس راستے کی صورتحال پر عالمی منڈیاں مسلسل نظر رکھتی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ مذاکرات کے لیے پاکستان اور قطر نے بہت کام کیا، میں جنگ جاری رکھ سکتا تھا لیکن میں پوری دنیا میں کساد بازاری نہیں چاہتا، جیسے ہی ہم امن کی بات کرتے ہیں اسٹاک مارکیٹ راکٹ کی طرح اوپر جاتی ہے۔
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے حوالے سے کہا کہ نیتن یاہو سے لبنان کے معاملے پر اختلاف ہے، اسرائیل حزب اللہ کے معاملے میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا تھا، نیتن یاہو بعض اوقات کچھ جذباتی ہوجاتا ہے لیکن اچھا ساتھی رہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی اسرائیل کو بھیجی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران راضی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے گا نہ حاصل کرے گا، ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روک کر پوری دنیا کو تباہی سے بچایا ہے، جوہری ذخائر سے متعلق تکنیکی بات چیت بھی جلد شروع ہوجائے گی، ہم ایران سے افزودہ جوہری مواد نکال کر ناکارہ بنائیں گے۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ معاہدے سے پورے مشرق وسطیٰ میں امن آئے گا، ایران کا بہت سارا پیسہ منجمد کیا ہے اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، ایران اچھا برتاؤ کرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کررہا، پڑوسی ایسا کرسکتے ہیں، ایران کو جنگ سے 2 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، ایران کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پڑوسی ممالک یا کچھ اور لوگ اس مد میں مدد کرسکتے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید غیر معمولی جنگجو ہیں، وہ بم گرا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ بم کون گرا رہا ہے، معلوم ہوا یہ یو اے ای تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی ممالک سے ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور دہشت گرد پراکسیز پر بھی بات چیت کررہے ہیں، ایران جنگ میں غیرجانبدار رہنے پر چینی اور روسی صدور کے شکرگزار ہیں۔









