حافظ نعیم الرحمن 29

امریکی دباؤ مسترد کرکے پاکستان ایران سے تجارت، گیس پائپ لائن مکمل کرے’حافظ نعیم الرحمن

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ایران سے آزادانہ تجارت اور پاک ایران گیس پائپ لائن مکمل کرے، ایران، امریکہ مذاکرات میں پاکستان کا کردار قابل تحیسن ہے، حکومت عالمی سطح پر ملنے والی پزیرائی کے ثمرات سمیٹنے کے لیے عوام میں اعتماد پیدا کرے، پٹرول کی قیمت ڈھائی سو روپے لٹیر تک لائی جائے۔

جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی اور پنجاب میں تعلیمی اداروں کی نج کاری عدالت میں چیلنج کرے گی۔ منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے خلیج میں کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے کردار کو سراہا اور کہا کہ اس سے امت تقسیم ہونے سے بچی رہی۔ انہوں نے جنگ اور مذاکرات میں ثابت قدمی کے مظاہرے پر ایرانی قیادت اور قوم کی تحیسن کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ جنگ بندی مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرلز وقاص جعفری، رسل خان بابر، امیر لاہور ضیاالدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

بعدازاں امیر جماعت اسلامی نے منصورہ میں ہی پاکستان بھر کی کارکنان حلقہ خواتین جماعت اسلامی سے آن لائن خطاب بھی کیا۔ اجتماع سے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکریٹریز ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ثمینہ سعید اور انیلہ محمود نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور آئی پی پیز معاہدوں پر فوری نظرثانی کرکے بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی لائے جائے۔ حکمران اپنی مراعات اور عیاشیوں میں کمی کریں۔ ان کا کہنا تھا ری گیسیفائڈ (Reـgassified) معاہدوں پر نظرثانی ہوجائے اور ایران گیس پائپ لائن مکمل ہوجائے تو نہ صرف ملک میں توانائی کا بحران ختم ہوجائے گا بلکہ گیس کی قیمتیں بھی کم ہوجائیں گی۔ امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی پچیس اپریل سے ممبرسازی مہم کا دوبارہ آغاز کررہی ہیں، پچاس لاکھ ممبرز اور پندرہ ہزار عوامی کمیٹیوں کی تشکیل کا ہدف پورا کریں گے۔

اہداف کے حصول کے بعد عوامی حقوق کے چارٹر کا ازسرِ نو جائزہ لے کر بڑی تحریک کا آغاز ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی سیاسی پارٹی عوام کے حقوق کی بات نہیں کرتی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ زراعت کا شعبہ تباہ حال اور کسان بے حال ہے اور اس تباہی کی سب سے بڑی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے۔ کسان سے گندم مقررہ پنتیس سو روپے من امدادی قیمت کے مطابق نہیں خریدی جارہی۔ مریم نواز کی حکومت اس سال بھی کسانوں سے دھوکہ کررہی ہے، گیارہ ارب کے جہاز میں بیٹھ کر کفایت شعاری کے درس دینے اور گورننس کے دعوے کرنے والے بادشاہوں اور ملکاؤں کی طرح صوبہ چلا رہے ہیں۔ کارکردگی کے اشتہار چلانے والی وزیراعلیٰ بتائیں کہ پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر کیوں ہیں؟

گیارہ ہزار سکولوں کو نجی شعبہ کے حوالے کردیا گیا، صحت کے بنیادی مراکز کو بھی پرائیویٹ شعبہ کو دیا جارہا ہے، لیڈی ہیلتھ ورکرز کو زبردستی احتجاج سے روک دیا گیا، صوبہ میں کسانوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز، پیرا میڈکیس (Paramedics) اور اساتذہ بھی پریشان ہیں۔ جماعت اسلامی نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ان کے حقوق کی جدوجہد میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ دبئی سے واپس آنے والے لوگ کراچی میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تاہم کراچی کو تباہ کردیا گیا، پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلیس ٹیم ہے اور اس تباہی کی ذمہ دار ہے، پیپلز پارٹی کو لانے والے بھی تباہی میں شراکت دار ہیں۔ جماعت اسلامی کا اصولی موقف ہے کہ اقتدار انہی کے سپرد کیا جائے جنہیں عوام نے منتخب کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران سے جنگ ہار گئے ہیں، امریکہ کو سفارتی، اخلاقی اور جنگی محاذ پر بری طرح شکست ہوئی ہے۔ ٹرمپ اس کے باوجود نعوذ باللہ خدا کی زبان میں بات کررہا ہے۔ ٹرمپ کو نہ روکا گیا تو یہ صہیونی لابی کو ساتھ ملا کر دنیا کو تباہ کردے گا۔ انسانیت دوست افراد اور ممالک اور خصوصی طور پر اسلامی ممالک شیطان کے پجاریوں اورصہیونی لابی کے خلاف متحد ہوجائے۔ پاکستان کو اس اتحاد کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے، چین اور روس کو بھی شامل کیا جائے۔ پاکستان سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کو توسیع دے کر اس میں ایران، ترکیہ اور خلیجی ریاستوں کو شامل کرے۔

کارکنان حلقہ خواتین سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اقامتِ دین کی جدوجہد تمام مسلمانوں پر فرض ہے اور مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی اس میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ جماعت اسلامی ایک منظم تحریک ہے جس کا مقصد دنیا میں دین کا نظام قائم کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران حلقہ خواتین نے ساڑھے آٹھ ہزار دورۂ قرآن منعقد کیے اور آٹھ لاکھ خواتین کو جماعت اسلامی کا ممبر بنایا، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ نچلی سطح، گلی محلوں تک کام کریں، اپنے ذاتی رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں اور خاندان کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح میں بھی کردار ادا کریں۔

امیر جماعت اسلامی نے موجودہ نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ نظام رشوت اور حرام کو فروغ دیتا ہے، جبکہ اسلامی نظامِ عدل کے بغیر معاشرے میں انصاف ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج مغرب کی بالادستی کے باعث دنیا میں اخلاقی بگاڑ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے حلقہ خواتین کو ایک ماہ میں دس لاکھ خواتین کو جماعت اسلامی کا رکن بنانے کا ہدف مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ امیر جماعت اسلامی نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لعنت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں نوجوان اور خواتین اس کا شکار ہو چکے ہیں اور تعلیمی اداروں میں بھی منشیات فروخت ہو رہی ہیں۔

انہوں نے والدین کو ہدایت کی کہ وہ اپنی اولاد کی دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں اسلامی تحریک کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی آئندہ انتخابات میں کسی سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ اپنی جدوجہد اور عوامی خدمت کے ذریعے آگے بڑھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کو عوام میں کوئی مخالفت درپیش نہیں، تاہم کارکنان کو مزید محنت اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں