واشنگٹن(رپورٹنگ آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران ایک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جو ان کے آئندہ چین کے دورے سے قبل بھی طے پا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کرنے کا ایک “بہت اچھا موقع” موجود ہے تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائیوں اور حملوں کی طرف واپس جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران معاہدے کو تسلیم کرتا ہے تو معاملہ ختم ہو جائے گا، لیکن انکار کی صورت میں بمباری کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں افزودہ یورینیم کی امریکا منتقلی ضروری نہیں ہوگی اور ایران کی یورینیم افزودگی کو 3.67 فیصد تک محدود کرنے کی شرط بھی اس معاہدے کا حصہ نہیں۔
امریکی صدر کے مطابق خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اس مذاکراتی عمل میں بھیجنے کا امکان بھی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر آخری ملاقات میں کسی جگہ معاہدے پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں ایران کی مدد کا معاملہ نہیں اٹھائیں گے، اور ایران سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا سخت اقدامات کرے گا۔









