تہران (رپورٹنگ آن لائن) ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران امریکا کی اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ ایران اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا۔
ترجمان کے مطابق ایران اس معاملے پر تفصیلی غورکر رہا ہے اورحتمی مؤقف بعد میں سامنے لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے فیصلے سے پاکستان کو آگاہ کرے گا، جو اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران معاہدے پر متفق نہ ہوا تو جنگ بندی کے بعد دوبارہ حملے شروع کیے جائیں گے اور یہ کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ شدت اور پیمانے پر ہوں گی۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا دھمکیاں بند کرے تو آبنائے ہرمز سے محفوظ راہداری ممکن ہوگی، نئے طریقہ کار کے ساتھ آبنائے ہرمز کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی حکام کے مطابق خلیجِ فارس اور خلیجِ عمان میں موجود جہازوں کے مالکان اور کپتانوں نے ایرانی قوانین کے مطابق تعاون کیا ہے، جس پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد خطے میں بحری سلامتی اور آمدورفت کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب امریکا نے آبنائے ہرمز میں اپنی بحری کارروائی عارضی طور پر روک دی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت اور ثالثی کی درخواست کے بعد کیا گیا، جب کہ انہوں نے عندیہ دیا کہ حالات بہتر ہونے کی صورت میں تجارتی راستے کھولے جا سکتے ہیں۔









