اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیراطلاعا ت ونشریات مریم اور نگزیب نے کہاہے کہ افواج پاکستان، عدلیہ اور اہم ریاستی آئینی اداروں کو بدنام کرنا آئین کے خلاف اقدام ہے، ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی،ٹویٹر کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف نے اداروں کو نشانہ بنایا، چار سال تک جعلی ٹویٹر اکائونٹس، یو ٹیوب اور بلاگرز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی جلد ہی اس کی تفصیلات ایوان میں پیش کریں گے۔
جمعہ کو وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مختلف ارکان کے سوالات پر جواب دیتے ہوئے کہاکہ افواج پاکستان، عدلیہ اور دیگر اہم ریاستی آئینی اداروں کو بدنام کرنا آئین کے خلاف اقدام ہے، اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوںنے کہاکہ ٹویٹر کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف نے اداروں کو نشانہ بنایا، چار سال تک جعلی ٹویٹر اکائونٹس، یو ٹیوب اور بلاگرز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی جلد ہی اس کی تفصیلات ایوان میں پیش کریں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ پی ٹی اے سائبر ونگ، ایف آئی اے سائبر ونگ پیکا قانون کو ڈیل کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ پیمرا پہلے وارننگ دیتا ہے، پھر بھی اگر مذکورہ چینل خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو پیمرا اپنے قانون کے تحت جرمانہ کرنے یا چینل بند کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ 2004 سے بجلی کے بلوں میں پی ٹی وی لائسنس فیس وصول کی جارہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ سارا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پیسکو اور کے الیکٹرک نے 2017ـ18ء سے 2021ـ22ء تک گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مجموعی طور پر 5 ارب 94 کروڑ 35 لاکھ 39 ہزار 147 روپے بجلی کے بلوں کے ذریعے ٹی وی لائسنس فیس وصول کی۔ انہوںنے کہاکہ جب بھی اخلاقیات کے برعکس کوئی اشتہار چلتا ہے تو پیمرا سیکشن 27 کے تحت نوٹس لیتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایسے اشتہار پر جرمانہ عائد نہیں کیا جاتا بلکہ بند کردیا جاتا ہے، اگر ایڈیٹ کر کے درست ہو سکتا ہے تو بھی ایسا کیا جاتا ہے۔
انہوںنے کہاکہ اگر وزارت اطلاعات کے کسی بھی ادارے میں قواعد کے برعکس بھرتیاں ہوئی ہیں تو ہم نے آتے ہی ایکشن لیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پی ٹی وی میں سیاسی بھرتیاں کی جاتی رہیں، اس طرح کی بھرتیوں سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اور نگزیب نے کہاکہ وزارت اطلاعات کے ماتحت دیگر اداروں میں جہاں بھی ایسی خلاف قواعد بھرتیاں ہوئی ہیں ہم نے کمیٹی بنا کر اس کا نوٹس لیا ہے۔
٭٭٭٭٭







