کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ میں ادویات کے خام مال کی مبینہ غیر قانونی درآمد کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ کسٹمز کے وکیل خالد راجپر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ فارماسیوٹیکل کمپنی صرف اپنی ضرورت کے لیے خام مال درآمد کر سکتی ہے، جبکہ متعلقہ کمپنی دیگر اداروں کو فراہمی کا ارادہ رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ درآمد شدہ سامان درحقیقت خام مال نہیں بلکہ تیار شدہ ادویات ہیں اور ڈریپ کی جانب سے جاری کیا گیا این او سی بھی قانونی اختیار کے بغیر دیا گیا، جو سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب کمپنی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ درآمد تمام قانونی تقاضوں کے مطابق کی گئی ہے اور معاملہ ٹربیونل میں زیر سماعت ہے۔ عدالت نے سماعت 6 اگست تک ملتوی کردی۔









