ہائیکورٹ 18

پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف دائر آئینی درخواست پر وفاقی حکومت سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف دائر آئینی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سمیت تمام فریقین کو 18جون کے لیے نوٹس جاری کر دیئے ۔جسٹس ملک اویس خالد نے شہری ہدایت اللہ خان کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر سماعت کے بعد تحریری حکم جاری کیا۔

عدالت نے اپنے حکم میں وفاقی حکومت، وزارتِ دفاع، نجکاری کمیشن، پی آئی اے اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔عدالت نے سرکاری وکیل کو بھی ہدایت کی کہ وہ تمام فریقین کی جانب سے جواب جمع کرانے کو یقینی بنائیں تاکہ درخواست میں اٹھائے گئے قانونی اور آئینی نکات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے جاری عمل میں آئین اور قانون کے تقاضوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ قومی ادارے کی نجکاری کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار شفافیت اور قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں اور اس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔درخواست گزار کے مطابق پی آئی اے کے اثاثوں کی مکمل اور شفاف ویلیوایشن قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں کی گئی جبکہ قومی اثاثے کی فروخت سے قبل ضروری قانونی مراحل اور شفاف طریقہ کار بھی اختیار نہیں کیا گیا۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ قومی اہمیت کے حامل ادارے کی نجکاری کے عمل میں عوامی مفاد اور قومی سرمائے کے تحفظ کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔درخواست میں وفاقی حکومت، وزارتِ دفاع، نجکاری کمیشن اور پی آئی اے کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پی آئی اے کی نجکاری کے موجودہ عمل کو آئین اور قانون کے منافی قرار دے۔ مزید استدعا کی گئی ہے کہ نجکاری کے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیا جائے اور متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق شفاف طریقہ کار اختیار کرنے کا حکم دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں