ہائیکورٹ 20

پیرا فورس کے اہلکار کیخلاف مقدمے کے اندراج سے متعلق درخواست خارج

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے شہری پر تشدد کرنے اور نقدی چھننے کے الزام میں پیرا فورس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا، جسٹس محمد اجمل نے قرار دیا کہ پیرا فورس کے اہلکار ہونے کی بنیاد پر کسی شخص کو عام فوجداری قانون سے استثنیٰ حاصل نہیں، عدالت نے پیرا فورس کے اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے حکم کی خلاف درخواست خارج کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اجمل زاہد نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کسی اہلکار کا سرکاری عہدہ بذات خود اس بات کا تعین نہیں کرتا کہ اس کے خلاف کون سا قانون لاگو ہوگا، اگر کسی معاملے میں پیرا ایکٹ 2024ء کے تحت جرم بنتا ہو تو متعلقہ خصوصی قانون کے طریقہ کار پر عمل کیا جائے تاہم اگر الزامات عام فوجداری قانون کے تحت جرم کے زمرے میں آتے ہوں تو پاکستان پینل کوڈ سمیت متعلقہ قوانین کے اطلاق کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ پیرا اہلکار کے خلاف ہر جرم کو محض اختیارات کے غلط استعمال کا معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور تشدد سمیت دیگر سنگین الزامات کو صرف سرکاری عہدے کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، پولیس کو متعلقہ معلومات، دستیاب شواہد اور الزامات کی نوعیت کا جائزہ لے کر قابل اطلاق قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔فیصلے کے مطابق درخواست گزار توقیر آصف نے ایڈیشنل سیشن جج کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس نے درخواست گزار کی جانب سے پیش کردہ معاملے میں مدعی کا موقف ریکارڈ کرنے اور پولیس کو ہدایت کی تھی کہ اگر قابل دست اندازی جرم بنتا ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ جسٹس آف پیس نے ایف آئی آر کے فوری اندراج کا حکم نہیں دیا تھا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پیرا اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد کیا، نامعلوم مقام پر منتقل کیا، برہنہ کیا، رقم چھینی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، مدعی کے مطابق مبینہ تشدد کی ویڈیو بھی بنائی گئی، درخواست گزار نے اپنے الزامات کے ثبوت میں میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ مبینہ جسمانی چوٹوں کے حوالے سے متعلقہ مواد ہو سکتا ہے، تاہم یہ دستاویز تنہا ملزم کی شناخت یا اس کی فوجداری ذمہ داری ثابت نہیں کرتی، الزامات کی سچائی اور ملزم کی ذمہ داری کا تعین متعلقہ شواہد کی روشنی میں کیا جائے گا۔فیصلے میں پیرا ایکٹ 2024ء کی دفعات 16، 49اور 53کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا گیا کہ قانون میں مختلف نوعیت کے معاملات کیلئے قانونی طریقہ کار اور شکایات کا نظام موجود ہے، اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق شکایت اور عام فوجداری جرم کے درمیان قانونی فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔عدالت نے محمد کامران کیس کے حوالے سے بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کو پیرا اہلکار کے خلاف عائد ہونے والے ہر الزام پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، مذکورہ مقدمے میں پیرا ایکٹ کے تحت قابل سزا جرائم کیلئے خصوصی قانونی طریقہ کار اپنانے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیرا اہلکار کو عام فوجداری قانون کے اطلاق سے مکمل استثنی حاصل ہو گیا ہے۔جسٹس محمد اجمل نے قرار دیا کہ متعلقہ حکام الزامات، دستیاب شواہد اور قابل اطلاق قوانین کا آزادانہ جائزہ لے کر قانون کے مطابق کارروائی کریں، عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے میں الزامات کی سچائی یا درخواست گزار کے قصور کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی گئی اور ایڈیشنل سیشن جج کے حکم میں مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں