پشاور ہائی کورٹ 16

پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے 24 سرکاری ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردیں

پشاور(رپورٹنگ آن لائن)پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے 24 سرکاری ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اگر حکومتی پالیسی آئین اور قانون کے مطابق ہو تو عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ پالیسی سازی، وسائل کا انتظام اور ترقیاتی ترجیحات کا تعین حکومت کا آئینی اور انتظامی اختیار ہے جبکہ عدلیہ کا کردار قانون کی نگرانی تک محدود ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صحت جیسے پیچیدہ شعبوں سے متعلق پالیسی معاملات میں عدالتوں کے پاس مطلوبہ تکنیکی مہارت نہیں ہوتی، اس لیے ایسے امور بنیادی طور پر حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ سے عوام کے بنیادی، آئینی یا قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق حکومتی اقدام میں نہ تو کسی قسم کی واضح من مانی ثابت ہوئی اور نہ ہی امتیازی سلوک یا قانون کی خلاف ورزی سامنے آئی۔یاد رہے کہ شہریوں اور وکلا کی جانب سے خیبرپختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کے تحت 24 سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی امور آؤٹ سورس کرنے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ اقدام ہسپتالوں کی نجکاری نہیں بلکہ صرف انتظامی امور کی آؤٹ سورسنگ ہے، جبکہ ہسپتالوں کی ملکیت اور کنٹرول حکومت کے پاس ہی رہے گا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس اقدام کے بعد بھی مریضوں کو سرکاری نرخوں پر مفت علاج کی سہولت بدستور جاری رہے گی۔تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواستیں مسترد کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کو قانونی قرار دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں