کینسر 20

پاکستان میں کینسر کے بڑھتے کیسز: وجوہات کیا ہیں؟

تحریر: حافظ حسن احمد،

پاکستان میں کینسر کے کیسز صحتِ عامہ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا بیماری کا خطرہ واقعی بڑھ رہا ہے یا بہتر تشخیص اور رپورٹنگ کے باعث زیادہ مریض سامنے آ رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ تحقیق برائے سرطان (IARC) کے گلوبوکن 2022 کے تخمینوں کے مطابق، پاکستان میں اس سال تقریباً 185,748 نئے کینسر کیسز اور 118,631 اموات کا اندازہ لگایا گیا۔ چھاتی کا کینسر سب سے عام تھا، جس کے تقریباً 30,682 کیسز متوقع تھے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں کینسر کی سنگین صورتِ حال کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم تمام مریضوں کا مکمل قومی ریکارڈ دستیاب نہیں۔

کیسز کی تعداد میں اضافے کی ایک ممکنہ وجہ بہتر تشخیص بھی ہے۔ جب زیادہ لوگوں کو طبی معائنے، بایوپسی اور جدید تشخیصی سہولتوں تک رسائی ملتی ہے تو ایسے مریض بھی سامنے آتے ہیں جن کی بیماری پہلے تشخیص نہیں ہو پاتی تھی۔ اس کے علاوہ آبادی میں اضافہ اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنے سے بھی کینسر کے مجموعی کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ طے کرنے کے لیے کہ اضافے کا کتنا حصہ بہتر تشخیص اور کتنا حقیقی تبدیلی کی وجہ سے ہے، مسلسل اور قابلِ اعتماد قومی اعداد و شمار ضروری ہیں۔

کینسر کی مختلف اقسام کے خطرات کئی عوامل سے وابستہ ہیں۔ تمباکو نوشی، نسوار اور گٹکا منہ اور بعض دیگر کینسرز کے اہم خطرات ہیں، جبکہ ہیپاٹائٹس بی اور سی جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) سروائیکل کینسر کی ایک اہم وجہ ہے۔ موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور بعض غذائی عوامل بھی مخصوص اقسام کے کینسر سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم، تمام کینسر کیسز کو کسی ایک وجہ سے منسوب کرنا درست نہیں۔

خوراک میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں کے بارے میں بھی سائنسی بنیادوں پر بات کرنا ضروری ہے۔ ہر فوڈ ایڈیٹو یا تیزابی مادہ کینسر کا سبب نہیں بنتا۔ اصل تشویش غیر منظور شدہ یا آلودہ اجزا، غیر محفوظ استعمال اور ایسے مادوں سے ہونی چاہیے جن کے صحت کے لیے خطرات شواہد سے ثابت ہوں۔ کسی مخصوص مادے کو کینسر سے منسلک کرنے کے لیے اس کی شناخت اور قابلِ اعتماد سائنسی تحقیق ضروری ہے۔

پاکستان میں کینسر کی درست صورتِ حال جاننے کے لیے قومی کینسر رجسٹری کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ ہسپتالوں اور تشخیصی مراکز سے معلومات جمع کرنے کا مؤثر نظام یہ واضح کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کون سی اقسام زیادہ عام ہیں، کن علاقوں میں کیسز زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں اور وقت کے ساتھ کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اس سے بچاؤ، تشخیص اور علاج کے لیے بہتر منصوبہ بندی ممکن ہو گی۔

کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے تمباکو کے استعمال میں کمی، ہیپاٹائٹس سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور معیاری علاج تک رسائی اہم ہیں۔ پاکستان میں اس بیماری کی وجوہات اور پھیلاؤ کو درست طور پر سمجھنے کے لیے قیاس آرائیوں کے بجائے قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور سائنسی تحقیق پر انحصار کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں