کراچی(رپورٹنگ آن لائن) مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ “پانی زندگی ہے، ہتھیار نہیں” اور پاکستان اپنے ہر قطرہ آب اور ہر آبی حق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبی گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ علاقائی امن اور عالمی استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔
شازیہ مری نے کہا کہ جس طرح عالمی برادری نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا، اسی طرح سندھ طاس معاہدے کے تحفظ اور اس پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ کسی سیاسی رعایت کا نتیجہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک لازمی اور مؤثر معاہدہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ملک ہے، تاہم اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق دریائے سندھ پاکستان کی معیشت، زراعت اور کروڑوں شہریوں کی زندگی کی شہ رگ ہے، لہٰذا اس کے پانی اور حقوق کا تحفظ قومی سلامتی کا بنیادی تقاضا ہے۔مرکزی ترجمان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورم سے رجوع کرے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ دور میں مشترکہ دریاؤں پر تعاون، اعتماد اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔شازیہ مری نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ سرحدی دریاؤں کو سیاسی ہتھیار بنانے کے رجحان کا فوری نوٹس لیا جائے اور آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانے کے خلاف ایک مضبوط بین الاقوامی قانونی نظام تشکیل دیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کے تحفظ، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے اور جدید آبپاشی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے گا، جبکہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
شازیہ مری نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایسا بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے کوئی ملک یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ بلاول بھٹو زرداری اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کا دفاع قانون، سفارت کاری اور عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مذاکرات کو ہمیشہ بین الاقوامی قانون، معاہدوں کے احترام اور باہمی ذمہ داریوں سے مشروط سمجھتا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا واحد راستہ انصاف، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر شازیہ مری نے کہا کہ دریائے سندھ آنے والی نسلوں کی امانت ہے، اسے سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا نعرہ “مرسوں مرسوں، سندھو نہ ڈیسوں” پاکستان کے آبی حقوق، قومی وقار اور دریائے سندھ کے تحفظ کے غیرمتزلزل عزم کی علامت ہے۔









