سندھ ہائی کورٹ 18

میر رضا قتل کیس: سندھ ہائیکورٹ میں اہم سماعت، تفتیشی افسر نے قتل کی تصدیق کردی

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا قتل کیس میں اہل خانہ کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت کے دوران پولیس تفتیش، جوڈیشل کمیشن اور شواہد سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر اہل خانہ کو موجودہ تفتیشی ٹیم پر اعتماد نہیں تو جے آئی ٹی بنانے میں کیا قباحت ہے؟ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ جوڈیشل انکوائری جاری پولیس تحقیقات پر کس حد تک اثرانداز ہوگی۔سندھ ہائیکورٹ میں میر رضا کے اہل خانہ اپنے وکیل جبران ناصر کے ہمراہ پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ سمیت تفتیشی افسر سراج لاشاری بھی عدالت میں موجود تھے۔درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر تین سوالات اٹھائے تھے، جس کے جواب کے لیے اہل خانہ کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہل خانہ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا، تاہم سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا۔

جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل کمیشن کو تحقیقات نہیں بلکہ طے شدہ ٹی او آرز کے تحت انکوائری کرنی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو لکھے گئے خط میں اہل خانہ نے ٹی او آرز بھی تجویز کیے تھے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جاچکا ہے اور اس نے کارروائی بھی شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ایک انتظامی فورم ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جوڈیشل انکوائری جاری تحقیقات پر اثرانداز ہوگی؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ انکوائری تحقیقات کا نعم البدل نہیں ہوسکتی، تاہم ایف آئی آر درج نہ ہونے کی صورت میں انکوائری کی جاسکتی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ جوڈیشل کمیشن پولیس تحقیقات سے معاونت حاصل کرسکتا ہے۔جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ گل پلازہ میں ہونے والی جوڈیشل کمیشن کی کارروائی علیحدہ نوعیت کی تھی جبکہ اصل کیس کی تحقیقات الگ جاری تھیں۔

پولیس کی جانب سے کیس اور شواہد خراب کرنے والے افسران کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی، حالانکہ اہل خانہ نے محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کا سراغ لگانا تحقیقاتی ٹیم کی ذمہ داری ہے، مگر 6 اگست سے پولیس صرف میڈیا کو معلومات فراہم کررہی ہے، اہل خانہ کو نہیں۔وکیل نے مزید کہا کہ 13 روز تک مدعی کا دفعہ 161 کے تحت بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد جس طرح کرائم سین کو واش کیا گیا تھا، اسی طرح میر رضا کیس میں بھی جائے وقوعہ کو آگ لگائی گئی۔ ان کا الزام تھا کہ کیس میں پولیس کی اعلیٰ سطح پر سبوتاڑ موجود ہے اور پولیس نے قبر کشائی سے قبل ہی کیس کو کلوز قرار دے دیا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ پولیس کی تفتیش میں سامنے آنے والی کوتاہیوں کی جانچ کے لیے ہی جوڈیشل کمیشن بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اہل خانہ کے خلاف نہیں ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے اہل خانہ کے موقف کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا، اہل خانہ کے خط پر معاملہ کابینہ میں زیر غور آیا اور کابینہ نے کمیشن کی منظوری دی۔ ان کے مطابق کمیشن کا مقصد اہل خانہ کے خدشات دور کرنا ہے۔جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ انتظامی سبوتاڑ کی صورت میں جے آئی ٹی کی تشکیل کی اجازت دے چکی ہے، جبکہ اس کیس میں پولیس کی اعلیٰ سطح پر سبوتاڑ کا خدشہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کو بھی اسی تحقیقاتی ٹیم کی معاونت حاصل ہوگی جو ایک ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان کا سراغ نہیں لگا سکی۔سماعت کے دوران عدالت نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پوسٹ مارٹم سے صرف یہ معلوم ہوا کہ واقعہ خودکشی نہیں ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر خودکشی نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر اہل خانہ کو تفتیشی ٹیم پر اعتماد نہیں تو جے آئی ٹی بنانے میں کیا قباحت ہے؟ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ درخواست گزار تفتیشی ٹیم کی تبدیلی کی درخواست دے سکتے ہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ جاری انویسٹی گیشن میں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کرسکتی، تاہم سوال یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن کیا کرے گا؟عدالت نے مزید کہا کہ اگر تفتیشی افسر شفاف تحقیقات کرے تو ہر کیس حل ہوسکتا ہے۔جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر نے اب تک عبوری رپورٹ بھی جمع نہیں کرائی۔

اس پر پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے بتایا کہ مجسٹریٹ نے تحقیقات کے لیے مہلت دی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ قانون کے مطابق متبادل فورم موجود ہے اور درخواست گزار سیشن عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت اس معاملے میں مدد کرسکتی ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت حکم دے تو وفاقی حکومت معاونت کرسکتی ہے۔پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے بتایا کہ ابھی تک چالان جمع نہیں ہوا، ممکن ہے پولیس رپورٹ سے پراسیکیوشن اتفاق نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری حکومت اور پولیس اس مقدمے میں ٹرائل پر ہے۔پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ ایسا تاثر دیا جارہا ہے جیسے حکومت نے قتل کیا ہو۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت کا نام کسی نے نہیں لیا۔پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے کہا کہ پورا شہر جام ہے اور احتجاج کیا جارہا ہے، جبکہ رپورٹ فائل ہونے سے پہلے ہی حکومت اور انتظامیہ کو سبوتاڑ قرار دے دیا گیا ہے۔ت

فتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے زیرو سے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ حتمی پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جبران ناصر کو نہیں بلکہ اپنی ڈیوٹی کو جواب دہ ہیں، جبکہ زیادہ تر شواہد ڈیجیٹل طور پر حاصل ہوئے ہیں۔تفتیشی افسر کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک خول ملا ہے تاہم پستول برآمد نہیں ہوا۔اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ پوسٹ مارٹم نے خودکشی کو خارج از امکان قرار دیا ہے، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ”آپ کی رائے میں یہ کیا ہے؟”تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو واضح طور پر بتایا کہ ”ہم کلیئر ہیں کہ قتل ہوا ہے۔”سندھ ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل اور تفتیش سے متعلق مؤقف سنا، جبکہ کیس میں جوڈیشل کمیشن، پولیس تحقیقات اور جے آئی ٹی کی درخواست کے حوالے سے عدالت کے اہم سوالات سامنے آئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے شفاف اور مؤثر تفتیش کی ضرورت پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں