ملک محمد احمد خان 21

معدنی وسائل کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے پالیسیوں کا تسلسل ،معاہدوں کا تحفظ ضروری ، ہر حکومت کی تبدیلی کیساتھ پالیسی نہیں بدلنی چاہیے’ملک احمد خاں

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان کے معدنی وسائل سے حقیقی معاشی فائدہ اٹھانے کیلئے سیاسی اتفاقِ رائے، پالیسیوں میں تسلسل، معاہدوں کا تحفظ اور واضح آئینی و قانونی فریم ورک ناگزیر ہے، حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ پالیسیوں میں تبدیلی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے،

اس لیے معدنی شعبے کیلئے طویل المدتی پالیسی مرتب کرنا ہوگی جس پر حکومتوں کی تبدیلی کا اثر نہ پڑے۔نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور میں سالانہ کانفرنس ”پاکستان میں نایاب ارضی معدنیات: مواقع اور چیلنجز” کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پاکستان کو معدنی وسائل سے مالا مال ملک قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان وسائل کو قومی دولت اور معاشی خوشحالی میں تبدیل کرنے میں اب تک کیوں کامیاب نہیں ہوسکے۔سپیکر ملک محمد احمد خاںنے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مسئلہ سیاسی عزم کی کمی کا ہے، حکومتی ڈھانچے کا ہے یا ہمارے پالیسی فریم ورک میں کوئی بنیادی خامی موجود ہے۔

جب کسی پالیسی یا معاہدے کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات سامنے آئیں تو انہیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ ان کے سوالات کو سنجیدگی سے سننا اور دلیل کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔سپیکر ملک محمد احمد خاںنے کہا کہ پاکستان کے آئین کے معمار اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل اور اختیارات کے معاملات کو ایک واضح آئینی فریم ورک کے تحت چلانا ہوگا۔ آئین نے اس حوالے سے بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی عزم کے ساتھ اس آئینی فریم ورک کو مؤثر طور پر بروئے کار لایا جائے۔

سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ معدنی شعبے میں ہونے والے بین الاقوامی معاہدے پانچ یا دس سال کیلئے نہیں ہوتے بلکہ کئی حکومتوں اور کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ اگر ہر حکومت کی تبدیلی کے ساتھ پالیسی تبدیل ہوتی رہے گی تو طویل المدتی سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟سپیکر ملک محمد احمد خاںنے کہا کہ سرمایہ کار کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ حکومت تبدیل ہونے کے باوجود قانون کے مطابق کیے گئے معاہدے محفوظ رہیں گے۔ پالیسی میں تسلسل اور معاہدوں کا نفاذ ہی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بنیاد ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خاںنے کہا کہ معدنی وسائل کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی قوانین میں ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے۔ معدنی وسائل کی تلاش، اخراج، سرمایہ کاری، معاہدوں اور لائسنسنگ کے معاملات میں قوانین واضح ہوں تاکہ سرمایہ کار کو مختلف قوانین کے درمیان تضاد کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ قانون سازی کے دوران ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم سوالات بھی سامنے آتے ہیں۔ اگر معدنیات کے حصول کیلئے جنگلات یا قدرتی وسائل متاثر ہوں تو یہ سوال لازماً اٹھے گا کہ ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ ایسے سوالات کے آسان جواب نہیں ہوتے، ان پر ماہرین، اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پارلیمان کی قائمہ کمیٹیوں، صوبائی اسمبلیوں، جامعات اور تحقیقی اداروں کا معدنی شعبے کی پالیسی سازی میں اہم کردار ہے۔ ہمارے جامعاتی ادارے ماہرینِ ارضیات اور دیگر شعبوں کے ماہرین تیار کررہے ہیں، ان کی تحقیق کو عملی پالیسی سازی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خاںنے این ایس پی پی کی جانب سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ عمل صرف کانفرنس کے انعقاد اور تحقیقی مقالوں کی اشاعت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ تحقیق اور سفارشات کو بلوچستان سمیت تمام صوبوں کے منتخب نمائندوں تک پہنچایا جائے اور ان کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کی جائے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ وہ معدنیات کے ماہر نہیں لیکن بطور قانون دان اور پارلیمانی عہدیدار ان کی دلچسپی یہ ہے کہ پاکستان میں سرمایہ لانے والے کاروباری افراد کو ایک ایسا قانونی ماحول فراہم کیا جائے جس میں انہیں اپنے سرمایہ اور معاہدوں کے مستقبل کے حوالے سے اعتماد حاصل ہو۔سپیکر ملک محمد احمد خاںنے کہا کہ پاکستان کے معدنی وسائل ملک کیلئے ایک بڑا موقع ہیں، تاہم ان وسائل کو قومی خوشحالی میں تبدیل کرنے کیلئے مضبوط اداروں، سیاسی عزم، مؤثر قانون سازی، صوبائی شراکت اور طویل المدتی قومی وژن کی ضرورت ہے۔تقریب میں ریکٹر نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور فرحان عزیز خواجہ، چیٔرمین سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ محمد اسماعیل قریشی، قونصل جنرل امریکی قونصلیٹ لاہور مسٹر اسٹیٹسن سینڈرز، ڈین این آئی پی پی لاہور ڈاکٹر نوید الٰہی، کمرشل قونصلر چینی قونصلیٹ لاہور مسٹر بھوٹینگ اور دیگر ماہرین، پالیسی سازوں اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں