ایکسائز ڈیپارٹمنٹ

قانون گیا بھاڑ میں۔PITB نے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ پر ” قبضہ” کرلیا۔

تنویر سرور۔۔۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے عملا” ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے گاڑیوں سے متعلق ڈیٹا پر اپنا قبضہ جما لیا ہے جس کی قانون میں کوئی گنجائش بھی نہیں یے۔

ذرائع کے مطابق سابق ڈائیریکٹر ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ریجن سی لاہور قمرالحسن سجاد کے ایک لیٹر کو بنیاد بنا کر پروگرامرمحمو یونس اور پی آئی ٹی بی کے سئنئیر پروگرام مینجر ارسلان منظور نے موٹر رجسٹرنگ اتھارٹیز کے تحریری حکم ناموں کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
اور قرار دیا ہے کہ MRAکا آرڈر ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا وہ سابق ڈائیریکٹر کے حکم کے پابند ہیں بھلے ہی سابق ڈائیریکٹر کا حکم موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے سیکشن 34 کے خلاف ہو۔

بتایا گیا یے کہ موٹر رجسٹرنگ اتھارٹی لاہور علی کمپلیکس ملک محمد عظیم نے سابق ڈائیریکٹر قمرالحسن سجاد کے یکم فروری 2022 کے آرڈر کی روشنی میں انسپکٹر طارق حسین کے گاڑی suspendکرنے کے عمل کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے گاڑی کو بحال کرکے اس کی نئے سرے سے سیکشن 34 کے تحت تصدیق کرنے کا حکم جاری کیا۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
جس پر ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹرمحمد عثمان نے Mantis جنریٹ کرکے پی آئی ٹی بی اور وہاں تعینات محکمے کے پروگرامر محمد یونس کو MRAکے تحریری حکم نامے پر عمل درآمد کرنے اور ٹیکنیکل فالٹ دور کرنے کی ریکویسٹ کی لیکن محمد یونس اور PITBکے سینئیر پروگرام مینجر ارسلان منظور نے MRA کے اس حکم نامے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ ارسلان منظور کا کہنا تھا کہ ڈی جی یا اے ڈی جی کے تحریری حکم کے بغیر وہ ان گاڑیوں کو بحال نہیں کرینگے۔

جبکہ محمدیونس کا کہنا تھا کہ اس کا کام محض پی آئی ٹی بی کو مینٹس کے متعلق آگاہ کرنا ہے وہ اس نے کر دیا یے۔گاڑی بحال کرنا یا نہ کرنا ارسلان منظور کی صوابدید یے وہ کچھ نہیں کرسکتا۔

ادھر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ The Provincial Motor Vehicles Ordinance 1965 کے تحت گاڑی کی رجسٹریشن ، ٹرانسفر اور معطلی کا اختیار صرف اور صرف MRA کے پاس ہے۔
اور محمد یونس یا پی آئی ٹی بی کے اہکار قانون پر عمل درآمد نہ کرکے جرم کے مرتکب ہورہے ہیں اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی سمیت فوجداری اقدامات لئے جاسکتے ہیں