لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کے اختیار سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیملی کورٹ کسی شہری کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم جاری نہیں کر سکتی،عدالت نے سیشن کورٹ گجرات اور فیملی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ قومی شناختی کارڈ ہر شہری کی بنیادی شناخت ہے،
جسے اس سے نہیں چھینا جا سکتا۔جسٹس مزمل اختر شبیر نے شہری ناصر علی رانجھا کی درخواست منظور کرتے ہوئے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قومی شناختی کارڈ کسی بھی شہری کی قانونی شناخت کا بنیادی ذریعہ ہے اور اس کی معطلی یا بلاک کیے جانے کے معاملے میں سپریم کورٹ پہلے ہی واضح قانونی اصول وضع کر چکی ہے، جن کی موجودگی میں ماتحت عدالتیں ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔
عدالت کے روبرو درخواست گزار ناصر علی رانجھا نے موقف اختیار کیا کہ ان کی اہلیہ نے نان و نفقہ کی ڈگری پر عملدرآمد کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا، جس پر فیملی کورٹ نے ان کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم جاری کر دیا، اس حکم کے خلاف سیشن کورٹ گجرات میں اپیل دائر کی گئی، تاہم سیشن کورٹ نے درخواست مسترد کر دی۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب فیملی کورٹ نے انہیں طلب کیا تو وہ اس وقت پاکستان میں موجود نہیں تھے، اس کے باوجود شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم جاری کیا گیا، جو قانون اور عدالتی نظائر کے منافی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قومی شناختی کارڈ صرف ایک شناختی دستاویز نہیں بلکہ شہری کے بنیادی حقوق، قانونی حیثیت، بینکاری، سفری سہولیات، سرکاری خدمات اور دیگر روزمرہ معاملات سے براہِ راست وابستہ ہے، اس لیے اسے بلاک کرنا کسی شہری کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتا ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ شناختی کارڈ بلاک کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں لہٰذا ماتحت عدالتیں ان اصولوں سے انحراف نہیں کر سکتیں، عدالت نے فیملی کورٹ اور سیشن کورٹ گجرات کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست منظور کر لی۔









