لاہور ہائیکورٹ 9

شیڈول میں تبدیلی کی درخواست،عدالت کی ٹرائل کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کی ہدایت

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) ن لیگ رکن قومی اسمبلی نوشین افتخارِ کی بچوں سے ملاقات کے شیڈول میں تبدیلی سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے فریقین کو ٹرائل کورٹ کے شیدول پر عملدرامد کرنے کی ہدایت کردی ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے ایم این اے نوشین افتخار کی درخواست پر سماعت کی دوران سماعت لیگی ایم این اے نوشین افتخار وکیل راجہ خرم جبکہ انکے شوہر سید مرتضی امین اپنے وکیل عرفان تارڑ کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے ،نوشین افتخار نے موقف اختیار کیا کہ ایپلٹ کورٹ نے بچوں سے ملاقات کے شیڈول میں ترمیم کی ہے۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیاست میں بچوں کو اولین ترجیح دیں بعد میں سیاست کو فی الحال گارڈین کورٹ کے آرڈر کے مطابق بچے باپ کے پاس رہیں گے، اور اسی طے شدہ شیدول کے مطابق ملاقات کریں ہائیکورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات کے بعد اس کیس کو دوبارہ سنیں گے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد ستمبر تک ملتوی کردی۔

عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں نوشین افتخار کے شوہر نے بتایا کہ فریقین میں 2020 میں علیحدگی ہوئی تھی درخواست گزار نے 16 سالہ بیٹی اور 12 سالہ بیٹے سے ملاقات کے شیڈول میں تبدیلی کی درخواست دائر کی ہے نوشین افتخار 2020 میں بچوں کو چھوڑ کر چلی گئیں تھیں 6 سال سے بچوں کی اکیلے پرورش کر رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوشین افتخار نے ہمیشہ سیاست کو ترجیح دی بچوں کو ہمیشہ سیکنڈری رکھا بچوں نے بھی ہر عدالتی فورم پر میرے حق میں بیان دیابچے اپنی والدہ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے والدہ انہیں مارتی تھیں اور ٹارچر کرتی تھیں نوشین افتخار کا سیاست کی طرف جانا اور گھر پر توجہ نہ دینا وجہ تنازع بنا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں