سینئر میڈیکل ٹیچرز 24

سینئر میڈیکل ٹیچرز کے تجربات اور مشاہدات نوجوان نسل کیلئے قیمتی سرمایہ: پرنسپل پی جی ایم آئی

لاہور13جون(زاہد انجم سے)پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا ہے کہ نوجوان ڈاکٹرز جدید ٹیکنالوجی اور سپیشلائزیشن کے ذریعے دکھی انسانیت کی خدمت کریں اور عالمی سطح پر طب کے شعبے میں ہونے والے جدید رجحانات سے باخبر رہیں۔

سینئر میڈیکل اساتذہ کے تجربات اور مشاہدات نوجوان نسل کیلئے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے امیر الدین میڈیکل کالج کے زیر اہتمام منعقدہ 5 روزہ خصوصی کلینیکل کورس “ASCERT-2026” (Summer Clinical Enhancement and Resuscitation Training Program) کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس تقریب میں ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، فیکلٹی ممبران، سینئر کنسلٹنٹس، ڈاکٹرز، ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر فرح شفیع نے کہا کہ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے گزشتہ سال سے اس سمر تربیتی پروگرام کا آغاز کیا تھا جس کا انتہائی شاندار فیڈ بیک ملا اور امتحانی نتائج بھی حوصلہ افزا رہے۔

پانچ روزہ تربیتی پروگرام میں ممتاز میڈیکل ٹیچرز پروفیسر جاوید اکرم، پروفیسر ارشد تقی، پروفیسر مجید چوہدری، پروفیسر ارشد چوہان پروفیسر معید اقبال اور پروفیسر آغا شبیر علی نے ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔پروفیسر ندرت سہیل، پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر حسن سلمان ملک، پروفیسر خرم سلیم اور پروفیسر شندانہ طارق و دیگر بھی موجود تھے۔
پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے جدید طبی تقاضوں اور مسلسل سیکھنے کے عمل کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تربیتی پروگرام اور ریسسیٹیشن (Resuscitation) ورکشاپس نوجوان ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ استعداد کار اور کلینیکل صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ یہ کورسز انہیں اس قابل بناتے ہیں کہ وہ مریض کی درست تشخیص، مؤثر علاج اور ان کی بہتر دیکھ بھال کو یقینی بنا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سمر کلینیکل پروگرام سے نوجوان ڈاکٹرز کی تعلیم و تربیت میں اضافہ ہوا جس کا براہ راست فائدہ مریضوں کو پہنچے گا۔ معیاری طبی تعلیم، جدید ریسرچ اور مریض دوست پالیسیوں کے تسلسل سے ہی معتبر طبی ادارے عالمی سطح پر اپنا نمایاں مقام بناتے ہیں۔

سینئر میڈیکل ٹیچرز
سینئر میڈیکل ٹیچرز

نوجوان معالجین اور میڈیکل طلبہ کے لیے اپنے سینئر اساتذہ کے علم، وسیع تجربے اور مشاہدات سے بھرپور استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ عملی زندگی میں حقیقی کامیابی کے لیے نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ کلینیکل مہارت اور فرض شناسی بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ طبی تعلیم و تربیت کا یہی معیار معاشرے کی ترقی کا اصل زینہ ہے۔

طبی اساتذہ اور ماہرین نے تربیتی کورس کے دوران نوجوان ڈاکٹرز اور ٹرینیز کو مریض کی مکمل ہسٹری لینے، مؤثر طبی رابطہ (Communication Skills) قائم کرنے، اور ایمرجنسی رسپانس سمیت مختلف پیچیدہ کلینیکل معائنہ جات کی عملی تربیت دی۔ شرکاء نے تربیتی سیشنز میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور ممتاز پروفیسرز کی زیرِ نگرانی اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو نکھارا۔

اس موقع پر سینئر مقررین نے نوجوان معالجین پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ دیانت، اخلاقی اقدار، فرض شناسی اور مریض دوستی کو اپنا شعار بنائیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا کہ “ASCERT-2026” نوجوان ڈاکٹرز کی کلینیکل مہارتوں کے فروغ اور مریضوں کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک بہترین اور مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی جی ایم آئی اور امیر الدین میڈیکل کالج مستقبل میں بھی ایسے جدید ترین تربیتی پروگرامز کا انعقاد جاری رکھیں گے تاکہ طبی تعلیم و تحقیق کو فروغ دے کر دکھی انسانیت کی خدمت کا مشن احسن طریقے سے جاری رکھا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں