کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بنچ نے ایف آئی اے کی جانب سے شہریوں کے بینک اور موبائل اکانٹس بلاک کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو شہریوں کے بینک اور موبائل اکاؤنٹس بلاک کرنے والے افسران کے خلاف انکوائری کی ہدایت کی اور تین ماہ میں انکوائری مکمل کرنے اور اس دوران افسران کو آپریشنل ذمہ داریاں نہ دینے کی ہدایت کی۔جسٹس عدنان الکریم میمن نے قرار دیا کہ محض انکوائری کی بنیاد پر شہریوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں کئے جاسکتے، اگر درخواست گزاروں کے پاسپورٹ یا اکانٹس بلاک کرنے کا قانونی حکم موجود نہیں تو سہولیات فوری بحال کی جائیں۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایف آئی اے نے بغیر نوٹس درخواست گزار کے پاسپورٹس، شناختی کارڈز، بینک اور موبائل اکانٹس بلاک کردیئے، شناختی دستاویز اور اکانٹس بلاک ہونے سے درخواست گزاروں کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا ہے، درخواست گزار کے خلاف مقدمے میں عدالت انہیں بری کرچکی ہے۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائیاں بنیادی مقدمے سے الگ نوعیت کی ہیں، ایسے معاملات میں کارروائیاں ملزمان کی بریت سے ازخود ختم نہیں ہوتیں۔
عدالت نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت تحقیقات جاری رکھی جاسکتی ہیں، شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق کارروائی شفافیت اور ضابطہ کار کے مطابق ہونا ضروری ہے، صرف انکوائری کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے پاسپورٹ یا مالی سرگرمیوں میں غیر معینہ مدت تک مداخلت نہیں کی جاسکتی۔عدالت نے مزید کہا کہ ایف آئی اے کے بینکوں کو لکھے گئے خطوط کو بینکوں نے اکانٹس بلاک کرنے کے لئے استعمال کیا، کسی مجاز عدالت یا اتھارٹی کی جانب سے اکانٹس منجمد کرنے کا حکم موجود نہیں تھا، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات صرف قانونی منظوری کے ساتھ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ قانونی منظوری کے بغیر یہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہوگا، ڈی جی ایف آئی اے ماتحت افسران کے طرز عمل کا جائزہ لیں، اختیارات کے ناجائز استعمال یا بدنیتی کے شواہد کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔عدالت عالیہ نے متنبہ کیا کہ اسی نوعیت کا معاملہ مستقبل میں سامنے آنے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔








