لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سابق رجسٹرار ہائیکورٹ سے 4لاکھ روپے ماہانہ الائونس کی ریکوری کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ انتظامی کمیٹی کے فیصلے کے خلاف رٹ پٹیشن ناقابلِ سماعت ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے سابق ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی سید خورشید انور رضوی کی درخواست پر 10صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ عدالتِ عالیہ کا کوئی بھی انتظامی یا مشاورتی فیصلہ آئینی دائرہ اختیار کے تحت چیلنج نہیں کیا جا سکتا، فیصلے میں سپریم کورٹ کے نظائر پر انحصار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے خلاف اسی ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ رجسٹرار ہائیکورٹ کا عہدہ جوڈیشل سروس کا حصہ ہے اور الائونس کا معاملہ سروس میٹرز میں آتا ہے، اس لیے اس نوعیت کے تنازعات کے ازالے کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے فیصلے میں کہا کہ جوڈیشل افسران اپنی سروس سے متعلقہ شکایات کے ازالے کے لیے پنجاب سب آرڈینیٹ جوڈیشری سروس ٹریبونل سے رجوع کریں، عدالت نے واضح کیا کہ رجسٹرار ہائیکورٹ کا الائونس ختم ہونے کے بعد پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کی سابق ڈی جی کا مساوی الائونس کا دعوی بھی برقرار نہیں رہتا کیونکہ مذکورہ الائونس برابری کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق کسی دوسرے موزوں قانونی فورم یا ٹریبونل سے رجوع کر سکتے۔









