لیاقت بلوچ 19

خیبرپختونخوا ہ میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانا حکومت کی مزید نااہلی ہوگی’لیاقت بلوچ

لاہور( رپورٹنگ آن لائن) جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ہ میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنا حکومت کی مزید نااہلی ہوگی، حکومت ایسا کرکے خود اپنی تباہی کو دعوت دے گی،آئین کے تحت ایسا اقدام اٹھانے کے لیے حکومت کے پاس کوئی حق یا بنیاد موجود نہیں۔ایک انٹر ویو میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان واپس آگئے ہیں، انہوں نے ہماری قیادت کو ٹیلیفون کرکے درخواست کی تھی کہ ان کی واپسی کا انتظار کیا جائے، وہ واپس آکر اس معاملے پر مکمل بات کریں گے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کریں گے۔

اب وزیراعظم کی واپسی کے بعد کچھ وقت تو گزرے گا لیکن توقع ہے کہ وہ پہلی فرصت میں اجلاس بلائیں گے تاکہ تمام معاملات پر بات ہوسکے۔ عوام منتظر ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات پر جو لیوی بھتہ ہے، اس کا خاتمہ ہوگا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرے گی اور نہ لامحدود وقت تک انتظار کرے گی،جتنا جلد ممکن ہو، یہ حکومت کے رویے پر منحصر ہے، اگر حکومت لیت و لعل سے کام لے گی، ٹال مٹول کرے گی یا تاخیری حربے استعمال کرے گی تو جماعت اسلامی کا حق ہوگا کہ کراچی سے راولپنڈی اور پھر ملتان پہنچنے والے سپر لانگ مارچ کا ملتان سے دوبارہ آغاز کیا جائے۔حکومت کی جانب سے احتجاج کے لیے اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہ دینے اور راستوں کی بندش سے متعلق سوال پر نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ شاید حکومت سمجھتی ہے کہ کوئی پرتشدد احتجاج ہوگا تاہم جماعت اسلامی کی تاریخ حکومت بھی جانتی ہے اور وزرا ء بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی شائستگی، مہذب طریقے اور دلیل کے ساتھ عوام کے مسائل پر احتجاج کرتی ہے اور دلیل سے بات بھی کرتی ہے۔

جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن، آئینی، جمہوری اور سیاسی حق ہے، جماعت اسلامی کبھی تشدد کی طرف نہیں جاتی۔ پرامن سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد سیاست کی طاقت اور جمہوریت کا حسن ہے، جبکہ تشدد سیاست اور جمہوریت کو کمزور کرتا اور غیر آئینی قوتوں کو طاقتور بناتا ہے۔پی ٹی آئی کے ساتھ ممکنہ تعاون سے متعلق سوال پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی ماضی میں حکومت میں پی ٹی آئی کے ساتھ رہی ہے اور ایک موقع پر احتجاج میں بھی ساتھ دیا تھا لیکن اس کے بعد پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہے،اس وقت کوئی اتحاد نہیں، ہر جماعت اپنے پلیٹ فارم سے احتجاج کر رہی ہے۔خیبر پختونخوا ہ میں گورنر راج سے متعلق سوال پر نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ باتیں تو ہو رہی ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کیا آئین کے اس اختیار کے استعمال کی حکومت کو کوئی بنیاد یا حق مل گیا ہے،ایسا کوئی حق نہیں ملا اور کوئی ایسی بنیاد بھی نہیں ، خیبر پختونخوا ہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنا حکومت کی مزید نا اہلی ہوگی اور وہ خود اپنی تباہی کو دعوت دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں