حلیم عادل شیخ 18

حلیم عادل شیخ کا 5 اگست کو “یومِ سیاہ” منانے کا اعلان، سندھ حکومت پر شدید تنقید

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ 5 اگست کو پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کی قید کو تین سال مکمل ہو جائیں گے، اس موقع پر ملک بھر میں “یومِ سیاہ” منایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان عوام کے حقوق اور خودمختار خارجہ پالیسی کے لیے جدوجہد کرنے کی وجہ سے جیل میں ہیں۔

انصاف ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے معیشت کی بہتری، برآمدات میں اضافے، ہیلتھ کارڈ، بلین ٹری سونامی، یکساں قومی نصاب، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم، القادر یونیورسٹی، اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے قیام، فاٹا کے انضمام اور دیگر اہم منصوبے متعارف کرائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا “سب سے بڑا جرم” “ابسلوٹلی ناٹ” کہنا تھا۔انہوں نے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکمرانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے میں کرپشن، بدانتظامی، مہنگائی، تعلیم، صحت، بلدیات، گندم، سولر انرجی، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا، جبکہ کراچی کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔حلیم عادل شیخ نے پیپلز پارٹی کے نعرے “مرسوں، مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں” پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام اب 18 برس کی حکومتی کارکردگی کا حساب مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 12 جولائی کو پیپلز پارٹی کی مجوزہ ریلیوں کا مقصد اپنی ناکامیوں اور بدعنوانی کے الزامات سے توجہ ہٹانا ہے۔انہوں نے سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ طور پر نوکریاں فروخت ہونے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ اگر احتسابی ادارے کارروائیاں کر رہے ہیں تو حکومت احتجاجی نعرے لگا رہی ہے۔قومی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک کو دہشت گردی، امن و امان اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کے قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے ایک مبینہ زیادتی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر کسی بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے۔حلیم عادل شیخ نے لاپتا ہندو بچی پریا کماری کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے آئی جی سندھ کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو بچی کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انصاف ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود ہے اور کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کل ریلیاں نکالتی ہے تو دیکھا جائے گا کہ اس پر کس نوعیت کی کارروائی ہوتی ہے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد نے کہا کہ رجیم چینج کے بعد ملک کو معاشی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے سندھ حکومت پر امن و امان، صحت، تعلیم اور بلدیاتی نظام میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے میٹرک بورڈ کے نتائج کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم، ایڈز کے پھیلاؤ، اینٹی ریبیز ویکسین کی قلت اور شہری مسائل میں اضافہ تشویشناک ہے، جبکہ پی ٹی آئی عوامی مسائل کو اجاگر کرتی رہے گی۔پریس کانفرنس میں مرکزی رہنما آفتاب جہانگیر، کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد، جمال صدیقی، سربلند خان، آغا ارسلان، نوید صدیقی، ولید ہاشمی، محمد علی بلوچ، عائشہ رشید، شازیہ عمران اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں