کاٹنے 19

جناح اسپتال میں 27 سالہ خاتون میں ریبیز کی تصدیق

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)جناح اسپتال کراچی میں 27 سالہ خاتون میں ریبیز کی تصدیق ہوگئی، تاہم دو روز تک خصوصی وارڈ میں زیر علاج رہنے کے بعد اہلخانہ مریضہ کو اپنی مرضی سے اسپتال سے گھر لے گئے۔

اسپتال حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کو ہفتے کے روز جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا تھا، جہاں اس میں ریبیز کی تمام علامات موجود تھیں۔ طبی معائنے اور تشخیصی عمل کے بعد ریبیز کی تصدیق ہوئی، جس پر مریضہ کو خصوصی وارڈ میں منتقل کرکے علاج شروع کیا گیا۔اسپتال حکام نے کہا کہ خاتون کو دو روز تک زیر علاج رکھا گیا، تاہم بعد ازاں اہلخانہ اسے اپنی مرضی سے اسپتال سے گھر لے گئے۔

مریضہ کو گھر منتقل کرنے کی وجوہات کے حوالے سے اہلخانہ کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔اسپتال ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کا تعلق ٹنڈو اللہ یار سے ہے اور اسے تقریباً 6 ماہ قبل ایک آوارہ کتے نے دائیں ٹخنے پر کاٹا تھا۔ کتے کے کاٹنے کے بعد خاتون کو ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین لگوائے جانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم اہلخانہ اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکے۔

طبی ذرائع کے مطابق ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بیماری انتہائی خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے، اس لیے جانور کے کاٹنے کے فوراً بعد احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور بروقت طبی امداد حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔اعداد و شمار کے مطابق رواں سال سندھ میں ریبیز کے 23 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں سے 14 کیسز انڈس اسپتال جبکہ 9 کیسز جناح اسپتال میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ طبی ماہرین نے صوبے میں آوارہ کتوں کی روک تھام اور شہریوں کو ریبیز سے بچاؤ کے حوالے سے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ماہرین صحت نے کہا کہ آوارہ یا مشتبہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے اور کسی تاخیر کے بغیر قریبی طبی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریبیز سے بچاؤ کیلئے بروقت حفاظتی ویکسینیشن انتہائی اہم ہے اور ویکسینیشن کا مقررہ کورس ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق مکمل کیا جانا چاہیے۔ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد صرف گھریلو علاج یا سابقہ ویکسینیشن کے دعوے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مستند طبی مرکز سے معائنہ اور ضروری حفاظتی اقدامات ضرور کرائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں