ہائیکورٹ 11

سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملزم کو سزا دینے کی قانونی حیثیت پر عدالت کے اہم سوالات

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں ویڈیو شہادت اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے قانونی و شرعی استعمال سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیئے ۔عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو طلب کرتے ہوئے ویڈیو و الیکٹرانک شہادت کے مثر استعمال اور تشریح کے لیے دو معاونینِ عدالت بھی مقرر کر دیئے ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے عمر قید کے مجرم راجہ شاہد کی جانب سے دائر اپیل پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے قتل کے مقدمات میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو شہادت کی قانونی حیثیت سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں پیش کی گئی ویڈیو شہادت کے حوالے سے ایسے قانونی اور فرانزک نکات سامنے آئے ہیں جن پر ماہرین کی معاونت ضروری ہے۔عدالت نے خصوصی طور پر یہ سوال اٹھایا کہ اگر سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کے چہرے واضح نہ ہوں تو کیا محض اس فوٹیج کی بنیاد پر ملزم کی شناخت کرکے اسے سزا دینا قانونی طور پر درست ہوگا؟ ۔عدالت نے پرائیویٹ طور پر حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کی قانونی حیثیت، اس کے قابلِ قبول ہونے اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے نقائص سے متعلق بھی اہم قانونی سوالات تشکیل دیئے ۔

تحریری حکم میں عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا صرف سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کسی ملزم کو سزا دی جاسکتی ہے؟ ۔عدالت نے اس امر پر بھی معاونت طلب کی ہے کہ آیا سی سی ٹی وی فوٹیج کی روشنی میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات کو مسترد کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔عدالت نے ملزمان کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج میں پکسل انہانسمنٹ اور فرانزک بنیادوں پر دوبارہ تجزیے کی ضرورت سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ سماعت کے دوران قتل کیس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کھلی عدالت میں چلا کر اس کا جائزہ بھی لیا گیا۔لاہور ہائیکورٹ نے ویڈیو اور الیکٹرانک شہادت سے متعلق قانونی نکات پر معاونت کے لیے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ شیبا قیصر کو معاونِ عدالت مقرر کردیا، جبکہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد نوید عمر بھٹی کو بھی معاونِ عدالت مقرر کیا گیا ہے۔

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب چوہدری عرفان صادق تارڑ اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے میں سامنے آنے والے قانونی اور فرانزک نکات پر معاونت طلب کرلی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ویڈیو شہادت کے استعمال، اس کی تصدیق، ملزمان کی شناخت اور قابلِ قبولیت سے متعلق قانونی اصولوں کی وضاحت ضروری ہے۔کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے ہوگی، جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو شہادت سے متعلق اہم قانونی و فرانزک سوالات پر عدالت کی معاونت کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں