سینیٹر محمد اورنگزیب 12

تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافے پر زور دیا، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ریٹیلرز کو نظام کا حصہ بنانے پر کام جاری ہے،وزیر خزانہ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر خزانہ سینیٹر اور نگزیب نے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافے پر زور دیا، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ریٹیلرز کو نظام کا حصہ بنانے پر کام جاری ہے،نئے سسٹم میں ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کے درمیان تعلق ختم ہوگا اور فیس لیس سسٹم اس کی جگہ لے گا،بعض تجاویز کو فنانس بل میں شامل کرنا ارادہ ہے، اس سال اکتالیس ارب ڈالر کے ترسیلات زر کا ہدف پورا کردیں گے، ہماری کوششیں رنگ لائیں اور خطے میں جنگ کے بادل چھٹ گئے جس کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم شہبازشریف اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔

ہفتہ کو407 کھرب 41 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیںجن کے مطابق ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 259 کھرب 92 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں،ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد جبکہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 58 کھرب 36 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں،غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 10 کھرب 71 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں،سپریم کورٹ کیلئے 7 ارب 44 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، وفاقی آئینی عدالت کیلئے 6 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کیلئے 2 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، آڈٹ کیلئے 9 ارب 82 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں،

وفاقی محتسب کیلئے 2 ارب 12 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد جبکہ وفاقی ٹیکس محتسب کیلئے 64 کروڑ 55 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، الیکشن کیلئے 10 ارب 57 کروڑ 75 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔دستاویز کے مطابق قلیل مدتی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے ایک کھرب 30 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ گرانٹس اور متفرق اخراجات کیلئے 57 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔دستاویز کے مطابق قومی اسمبلی کیلئے 7 ارب 96 کروڑ روپے جبکہ سینیٹ کیلئے 6 ارب 42 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ الائونسز، کہن سالی اور پنشن کیلئے 6 ارب 93 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،فارن مشنز کیلئے 50 کروڑ روپے جبکہ شعبہ قانون و انصاف کیلئے 53 کروڑ 94 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، صدر مملکت کے پبلک آفس کے ملازمین کے الائونسز کیلئے 96 کروڑ 37 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیںدستاویز کے مطابق صدر مملکت کے پرسنل آفس کے ملازمین کے الائونسز کیلئے ایک ارب 83 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پاکستان پوسٹ کے لیے 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بعد ازاں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافے پر زور دیا ہے، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ریٹیلرز کو نظام کا حصہ بنانے پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ عظیم الدین زاہد اور خواجہ شیراز نے بجٹ کے اعداد و شمار سے متعلق اعتراض کیا، کاش یہ اعتراضات تحریک استحقاق کی بجائے ایوان میں بات کرتے۔ انہوںنے کہاکہ نیشنل اکائونٹس سے متعلق اعداد و شمار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، معاشی اعشاریوں میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ ایران جنگ روک کر مخلص کردار ادا کیا، امریکہ ایران معاہدے سے ہمارا قومی وقار بلند ہوا، بجٹ بحث ہر تمام اراکین اسمبلی اور سینیٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ بعض تجاویز کو فنانس بل میں شامل کرنا ارادہ ہے، اس سال اکتالیس ارب ڈالر کے ترسیلات زر کا ہدف پورا کردیں گے،

آئی ٹی ایکسپورٹ ساڑھے چار ارب ڈالر ہونے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافے پر زور دیا ہے، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ریٹیلرز کو نظام کا حصہ بنانے پر کام جاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایف بی آر کی کارکردگی پر تنقید کی گئی،ہماری حکومت نے دو سالوں میں چودہ ارب ڈالر کے اضافی محصولات جمع کیے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری کوششیں رنگ لائیں اور خطے میں جنگ کے بادل چھٹ گئے جس کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم شہبازشریف اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں، پاکستان نے جنگ رکوا کر بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ بجٹ میں ہی سمت واضح کردی جس کے باعث معاشی استحکام آیا، ہماری صنعتیں رواں دواں ہیں اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ سرپلس ہے، ہمارا برآمدی شعبہ بہتری دکھا رہا ہے، آئی ٹی ایکسپورٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کی ہیں، ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کے درمیان تعلق ختم ہوگا اور فیس لیس سسٹم اس کی جگہ لے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں