پرنسپل پی جی ایم آئی

تشویشناک مریضوں کی جان بچانے کیلئے ایک ایک لمحہ قیمتی:پرنسپل پی جی ایم آئی

لاہور(رپورٹنگ آن لائن)پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی،صنعتی ترقی اور ٹریفک کے ازدھام کی وجہ سے حادثات بھی بڑھ گئے ہیں جس کے باعث انسانی زندگیوں کو لاحق خطرات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اوراس تناظر میں ٹراما مینجمنٹ کی اہمیت و ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے جس کیلئے ینگ ڈاکٹرز کو خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہیے اور اپنے میڈیکل نالج میں عصری تقاضوں کے مطابق اضافہ کرتے رہنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ جنرل سرجری یونٹ ون کے زیر اہتمام 6ویں ارلی مینجمنٹ آف ٹراما کے موضوع پر منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں صوبہ بھر کے ہسپتالوں سے100سے زائد نوجوان ڈاکٹرز نے شرکت کی۔پروفیسر خالد محمود،پروفیسر فاروق افضل،پروفیسر ارشد چیمہ، پروفیسر جودت سلیم، پروفیسر شعیب نبی، پروفیسر حنیف میاں،پروفیسر آصف بشیر، پروفیسر ہارون مجید اور ڈاکٹر عمران کھوکھر اور ڈاکٹر عافیہ نے نوجوان ڈاکٹروں کو ٹراما مینجمنٹ کے حوالے سے لیکچرز دیے اور ان کے لئے عملی تربیت کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر توصیف فاطمہ،ڈاکٹر سلمان آصف،ڈاکٹر انوار زیب اور ڈاکٹر اویس امجد بھی اس موقع پر موجود تھے۔

پرنسپل پی جی ایم آئی نے پروفیسر آف سرجری ڈاکٹر فاروق افضل کی پیشہ وارانہ مہارت اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل گزشتہ کئی سالوں سے ٹراما مینجمنٹ اور ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے اور ڈاکٹرز ودیگر عملے کی تربیت کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل ہیں جس کا نوجوان ڈاکٹر ز کو بہت فائدہ پہنچتا ہے اور وہ اپنی عملی زندگی میں مریضوں کو بہتر طریقے سے ہینڈل کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔
پرنسپل پی جی ایم آئی
پروفیسر الفرید ظفر نے مزید کہا کہ حادثات میں زخمی افراد اور تشویشناک حالت میں مبتلامریض کی زندگی اور موت کے درمیان صرف چند لمحات کا فاصلہ ہوتا ہے اور ان کی جان بچانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں وقت ضائع کیے بغیر ہسپتال ایمرجنسی میں پہنچایا جائے جبکہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرو نرسز پیشہ وارانہ لگن کے ساتھ مریض کو ضرورت کے مطابق طبی امداد مہیا کریں۔انہوں نے کہا کہ مریض کو ہسپتال بر وقت پہنچانا اور فوری طبی امداد فراہم کرنے کا عمل ارلی ٹراما مینجمنٹ کا حصہ ہے اور متعلقہ ایس او پیز پر عمل کر کے بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی سطح پر لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیکل پروفیشن سے وابستہ افراد کو بھی ٹراما بارے ضروری معلومات اور تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ ایمرجنسی کی صورتحال میں مریضوں کی بہتر نگہداشت اور علاج فراہم کر سکیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر الفرید ظفر اور ای ڈی پنز کا کہنا تھا کہ ایک ڈاکٹر سچا مسیحا کہلوانے کا اس وقت حقدار ٹھہرتا ہے جب وہ اپنی جیحات میں مریض کے علاج معالجے کو سر فہرست رکھتا ہے کیونکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ” جس نے ایک انسان کی جان بچائی تو گویا اُس نے پوری انسانیت کی جان بچائی”۔ طبی ماہرین نے کہا کہ پروفیسر صاحبان نوجوان ڈاکٹروں کو ٹراما مینجمنٹ کے طریقوں سے آگاہ رکھیں اور اس حوالے سے انہیں پیشہ وارانہ رہنمائی فراہم کریں۔ پروفیسر فاروق افضل نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر زاور پیرا میڈیکس کو ارلی مینجمنٹ آف ٹراماکی تربیت دینا اشد ضروری ہے کیونکہ اعلیٰ تربیت یافتہ سٹاف ہی کسی بھی ہسپتال میں ٹراما سینٹر کو کامیابی کے ساتھ رن کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی ورکشاپس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جس سے علاج معالجے کی نئی راہیں متعین ہوتی ہیں لہذا ینگ ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنے نالج میں اضافہ کرنے کے لئے اپنے سینئرز کے تجربات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ ورکشاپ میں اختتام پر شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے جبکہ سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔