لاہور( رپورٹنگ آن لائن)آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے مشکل حالات کے باوجود معیشت کو استحکام دینے کے لیے قابل قدر اقدامات کیے ہیں ،پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تاجروں، صنعتکاروں اور دیگر شعبوں کے ماہرین کی تجاویز کو بجٹ دستاویز کا حصہ بنایا جائے ۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں تاجری برادری کو ریلیف دینے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے، فکسڈ ٹیکس نظام کو آسان بنایا جائے اور کاروباری لاگت میں کمی کے لیے بجلی کے نرخوں میں مناسب ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بینکوں سے کاروباری قرضوں کے حصول کے طریقہ کار کو آسان اور شرح سود کو کم کیا جائے تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے۔
اشرف بھٹی نے کہا کہ تاجر برادری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ملکی محصولات میں اہم کردار ادا کرتی ہے اس لیے ٹیکس نظام کو سادہ، شفاف اور کاروبار دوست بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے تاکہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بجٹ میں ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے جو کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں اضافے کا باعث بنیں گے۔









