مقبوضہ بیت المقدس (رپورٹنگ آن لائن) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقت ور اتحادی نہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بعض اسرائیلی وزرا کی جانب سے امریکی انتظامیہ پر تنقید کی گئی تھی۔
اس کا جواب دیتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ اگر میں اسرائیلی کابینہ میں ہوتا تو پوری دُنیا میں اپنے واحد اور طاقت ور اتحادی یعنی امریکہ کو نشانہ نہ بناتا۔
تنقید کرنے والے اسرائیلی وزرا کو مخاطب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا تھا کہ پچھلے تین ماہ کے دوران جن دفاعی ہتھیاروں نے آپ کے ملک کو بچایا، اُن میں سے دو تہائی امریکی تھے اور انہیں امریکی ہنرمندوں نے تیار کیا تھا اور امریکی ٹیکس دہندگان نے اس کے لیے ڈالرز دیے تھے۔
امریکی ٹیلی وژن چینل فاکس نیوز کو ایک حالیہ انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ جب انہوں نے امریکی نائب صدر کا یہ بیان سنا تھا تو ان کا کیا ردعمل تھا؟
جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں جے ڈی وینس کی عزت کرتا ہوں، ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کی ہر بات سے اتفاق کروں۔
بنیامین نیتن یاہو نے مزید کہا کہ مجھے اس بات کی نشاندہی کرنا ہو گی کہ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ہمارے عظیم دوست ہیں اور میں اپنے اس مؤقف پر قائم ہوں، لیکن ہمارے دیگر دوست بھی ہیں، جیسے کہ ایک چھوٹا سا ملک جو انڈیا کہلاتا ہے، آپ جانتے ہیں اس کی آبادی 1.4 ارب ہے۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ انڈیا میں اسرائیل کو بہت زیادہ حمایت حاصل ہے۔







