امریکا

امریکا نے یوکرینیوں کو بیرون ملک ہواِٹزرآرٹلری نظام کی تربیت دیناشروع کردی

واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن)امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک سینئر عہدہ دار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے یوکرینیوں کو ایک اور ملک میں ہواٹزرآرٹلری نظام کے استعمال کے بارے میں تربیت دینا شروع کردی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس عہدہ دارنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ یوکرین کے قریبا 50 تربیت کاروں کو اس نظام کے بارے میں سکھایا جا رہا ہے اور اس تربیتی عمل میں قریبا ایک ہفتہ لگے گا۔پینٹاگون نے کہا کہ یوکرین کو نئے طیارے موصول ہوئے ہیں۔ تاہم عہدہ دار نے کہا کہ ایسے بیانات درست نہیں کیونکہ کیف کو یورپ سے طیاروں کے کچھ پرزے ملے ہیں جس سے انھیں ناکارہ طیاروں کو ٹھیک کرنے میں مدد ملی ہے۔اس کے نتیجے میں یوکرین کو مرمت شدہ پرزوں کی وجہ سے اب کم سے کم 20 لڑاکا طیارے دستیاب ہوگئے ہیں۔ یہ طیارے اس نے چند ہفتے پہلے لیے تھے۔

اعلی دفاعی عہدہ دار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں خطے میں امریکا کی فوجی امداد لر کرچار پروازیں اتری ہیں۔انھیں یوکرین پہنچایا جائے گا اورآیندہ 24 گھنٹے میں مزید چار پروازوں کی آمد متوقع ہے۔عہدہ دار نے صحافیوں کو بتایا کہ روس نے یوکرین کے اندرچار نئے بٹالین ٹیکٹیکل گروپس (بی ٹی جیز) شامل کیے ہیں۔اس نے ڈونبس کے مشرق میں کم سے کم تین بی ٹی جی بھیجے ہیں۔عہدہ دار نے کہا کہ امریکا اب بھی اندازہ لگاتا ہے کہ ڈونبس کی فضائی حدودمیں مقابلہ جاری ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ روسی جیٹ طیارے یوکرینی فضائی حدود میں بہت طویل عرصہ نہیں رہ رہے تھے اور بعض اوقات یوکرینی فضائی دفاع کی وجہ سے بالکل نہیں۔

ایک یورپی عہدہ دار نے کہا کہ روس کا بنیادی مقصد ماریوپول پر قبضہ کرنا ہے لیکن ڈونبس پر قبضہ بھی اس کی ترجیح ہے۔اس کے علاوہ روس کے دیگر اہداف میں یہ امورشامل ہیں،ماریوپول کے راستے کریمیا کے لیے زمینی پل کو محفوظ بنانا۔خارسن کو کنٹرول کرنا، جو کریمیا تک میٹھے پانی کی نہروں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ممکنہ امن مذاکرات کے دوران میں مزیدعلاقوں پر قبضہ کرنا اورانھیں بفرزون یا مذاکراتی آلے کے طورپراستعمال کیا جائے گا۔