اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے ایک معزز رکن کے خلاف ”جعلی اور بے بنیاد خبروں”کے پھیلاؤ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی انہیں پروموٹ کیا جانا چاہیے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں اور کردار کشی کے خلاف موثر میکانزم بنایا جائے۔
بدھ کو یہاں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ پورا ایوان متعلقہ قانون ساز کے ساتھ کھڑا ہے اور پارلیمان کے کسی بھی قابل احترام رکن کے خلاف کسی نامناسب مہم کو حکومت کی سطح پر نمٹایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں جو ردعمل سامنے آیا ہے اس سے ثابت ہو چکا ہے کہ الزامات ”فرضی اور بے بنیاد”تھے اور عوام نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس معاملے کو داخلہ کمیٹی کے سپرد کیا، جو غور و فکر اور انکوائری کے لیے مناسب فورم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے 30 سالہ قانونی پریکٹس، خصوصاً کرمنل لا کے تجربے کی بنیاد پر لگتا ہے کہ ”چھوٹے مجرم”اکثر مشہور شخصیات کے نام استعمال کر کے اپنے کیسز سے توجہ ہٹاتے ہیں۔وزیر قانون نے الیکٹرانک میڈیا آؤٹ لیٹس اور ریگولیٹری اتھارٹیز سے اپیل کی کہ حساس معاملات کی رپورٹنگ کرتے وقت احتیاط برتی جائے، اور اخلاقیات اور افراد کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تصدیق کے بغیر بار بار اسکینڈلز والا مواد نشر کرنے سے افراد کی عزت، ناموس اور پرائیویسی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو معلومات کا حق تو ہے، لیکن میڈیا کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ رپورٹنگ کسی بھی شہری کے آئینی حقوق اور ذاتی وقار کی خلاف ورزی نہ کرے۔
انہوں نیکہا کہ ہاؤس کے کئی اراکین خود ماضی میں ایسے حالات کا شکار رہے ہیں اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے نتائج کو سمجھتے ہیں۔وفاقی وزیر نے ہاؤس کو یقین دلایا کہ اس معاملے کی مکمل تفتیش کی جائے گی، جس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ متعلقہ بیان کیوں جاری کیا گیا اور کیا یہ حقائق پر مبنی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غلط کاری ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا اور ہاؤس کو اس کی اطلاع دی جائے گی۔اعظم نذیر تارڑ نے جعلی اور اسکینڈلز والی خبروں کے پھیلاؤ کے خلاف موجودہ قوانین کے موثر نفاذ پر زور دیا اور کہا کہ حکومت سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر کے مستقبل میں ایسی خبروں کے خلاف بہتر تحفظ یقینی بنائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ریمانڈ ایک انتظامی کارروائی ہے اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ عوامی یا ٹیلی ویزڈ کارروائی ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ایسی غیر مصدقہ افواہیں بغیر مناسب تفتیش کے پھیلتی رہیں تو بہت سے افراد کو مزید عزت و ناموس کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے مناسب اقدامات کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ آزادی اظہار کو محدود کرنے سے متعلق نہیں بلکہ مقدمات کی پروسیجرل ہینڈلنگ سے متعلق ہے، جو عدالت یا مخصوص عدالتی جگہ کے اندر رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کنٹرولڈ ماحول میں ہونی چاہیے، جہاں ویڈیو لنک سماعت جیسی سہولیات دستیاب ہوں، اور تمام انتظامات عدالتی فریم ورک کے اندر کیے جائیں۔
اس سے قبل سابق وزیراعظم اور سینئر پارلیمان راجہ پرویز اشرف نے حکومت اور پارلیمان سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں اور کردار کشی کے خلاف موثر میکانزم بنایا جائے، کیونکہ غیر مصدقہ الزامات معصوم لوگوں کی عزت و ناموس کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔راجہ پرو?ز اشرف نے 18 مئی کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک کلپ کا حوالہ دیا جس میں تفتیش کے دوران ایک خاتون نے مبینہ طور پر ان کا نام لیا۔ انہوں نے کہا کہ تھوڑی دیر بعد خاتون کے وکیل نے وضاحت کی کہ اسے دباؤ ڈال کر ان کا نام لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ وضاحت آدھے گھنٹے میں سامنے آ گئی، لیکن ابتدائی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا تھا جہاں مختلف افراد نے کمنٹس کیے اور اس پر ولاگز بنائے۔
انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے فوری نوٹس لیا اور اپنی پارٹی کی قیادت، ساتھی اراکین پارلیمان، فیملی ممبران اور حتیٰ کہ سیاسی مخالفین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے عوامی طور پر ان کے خلاف الزامات کو مسترد کیا۔راجہ پرو?ز اشرف نے کہا کہ انہوں نے ایک باعزت سیاسی زندگی گزار دی، وزیراعظم، قومی اسمبلی کے اسپیکر رہے اور چار بار پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو اٹھانے کا مقصد ذاتی دفاع نہیں بلکہ جعلی خبروں اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو اجاگر کرنا ہے جو افراد کو بدنام کرتا ہے اور اصل تفتیش سے توجہ ہٹاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر کیسز میں تفتیش مکمل ہونے سے پہلے سیاستدانوں اور عوامی شخصیات کے خلاف سنسنی خیز الزامات پھیلا دیے جاتے ہیں جس سے عوامی رسوائی ہوتی ہے چاہے بعد میں عدالت انہیں بری ہی کیوں نہ کر دے۔ انہوں نے سوال کیاکہ ”دس سال بعد اگر کوئی بے گناہ قرار پا جائے تو ان برسوں میں خراب ہونے والی عزت و وقار کو کون بحال کرے گا؟۔سینئر سیاستدان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے حدود متعین کرنے اور بے بنیاد الزامات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قانون سازی اور قواعد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر ثبوت کے جھوٹے الزامات سماجی اقدار کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہیں۔
راجہ پرویز اشرف نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے خود پولیس حکام سے رپورٹس طلب کیں، جس سے الزامات کے بے بنیاد ہونے کا پردہ فاش ہوا۔انہوں نے تمام پارٹی لائنز کے اراکین سے اپیل کی کہ وہ مل کر ایک قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک بنائیں تاکہ مجرموں کو سزا ملے اور معصوم افراد کو جعلی خبروں اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی وجہ سے کردار کشی اور ساکھ کو نقصان سے بچایا جا سکے۔









