اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ احتجاج اور دھرنوں سے معیشت کو یومیہ 120ارب روپے کا نقصان ہو گا، دھرنوں اور ہڑتالوں سے معاشی ترقی کا سفر متاثر ہو سکتا ہے، معاشی سرگرمیوں کے تعطل سے قومی معیشت کو اربوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے، پائیدار معاشی استحکام کا حصول ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ہم معاشی استحکام سے معاشی ترقی کی جانب گامزن ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر ملک کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں،مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی ہے،اخراجات کو کم کیا جا رہا ہے،کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہے،ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ کا رجحان ہے،
برآمدات کا شعبہ بھی درست سمت میں گامزن ہے، پاکستان سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بدقسمتی سے مشرق وسطی کی صورتحال سے سب متاثر ہو رہے ہیں، امید ہے معاشی ترقی کے سفر میں مزید بہتری آئے گی، احتجاج ، دھرنے اور ہڑتالیں مسائل کا حل نہیں ، ڈائیلاگ کا راستہ ہی سب سے بہتر اور مناسب ہے۔ اتوار کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں چند حقائق عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ، گزشتہ ہفتے میں ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں ، قومی تاریخ میں مالیاتی خسارہ ہائی سنگل ڈیجٹ سے 2.6 پہ آ چکا اور آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ،ہماری پوری کوشش ہے ہم اخراجات کو کم کریں، کرنٹ اکائونٹ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 14 سال کے بعد کرنٹ اکائونٹ سرپلس آیا ، گزشتہ سال ہمارا اکائونٹ برابر تھا۔ وزیر خزانہ نے کہا ہماری آئی ٹی کی برآمدات میں مسلسل اضافے کا رجحان ہے، گزشتہ مالی سال میں 4.6 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئیں اور اس سال انشااللہ تعالیٰ بڑھ کے 5.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی قومی برآمدات بھی اضافہ ہو رہا ہے ، ہمارا کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد کے قریب ہے، اسی طرح ہماری جی ڈی پی گروتھ میں پچھلے سال 3.7 فیصد کی گروتھ ہوئی اور انشااللہ تعالی اس سال چار فیصد سے اوپر کی امید ہے جس میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے شعبے کی کارکردگی کا نمایاں حصہ ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی برآمدات میں ماہانہ اور سالانہ بنیاد پر بڑھوتری ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی معیشت درست سمت میں آگے بڑگ رہی ہے ،مینوفیکچرنگ کے علاوہ بزنس انڈیکس کے نمبرز بھی اوپر جا رہے ہیں اور اگر سٹاک ایکسچینج میں انڈیکیشن دیکھیں تو ہمارے سرمایہ کار بڑھے ہیں بالخصوص نوجوانوں کی تعداد بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں 11 آئی پی اوز ہوئیں جبکہ گزشتہ دو مہینے میں پانچ ہو چکی ہیں ، اس کا مطلب ہے کمپنیاں اپنے بزنس کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہی ہیں اور کریں گی اور اس لیے وہ ایکویٹی کو ریز کر رہی ہیں یا وہ نئے یونٹس لگا رہی ہیں ، یہ تمام اعشاریے مثبت ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ انشااللہ ہماری معاشی ترقی کے سفر میں مزید اضافہ ہوگا ۔ معاشی چیلنجز کے حوالہ سے وزیر خزانہ نے کہا کہ کچھ مشکلات ہیں ،مشرق وسطی کے تنازعے سے دنیا متاثر ہو رہی ہے لیکن ہمارے وزیراعظم اور سی ڈی ایف کی پوری کوشش ہے کہ اسلام آباد ایم او یو پر واپسی ممکن ہو اور تنازعے کا خاتمہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ تنازعے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بوجھ ہے اور کاروباری خواتین و حضرات بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت تجارت میں مسائل پیدا ہوئے ہیں ، تنازعے کی وجہ سے کاروباری لاگت، انشورنس اور کرایوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، ظاہری بات ہے کہ اس تنازعے سے ہم بھی متاثر ہو رہے ہیں اور ساری دنیا متاثر ہو رہی ہے ۔ ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارے دشمن ممالک اور قوتیں اس کے پیچھے ہیں لیکن ہماری افواج، سول آرمد فورسز اس کا بھر پور مقابلہ کر رہی ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم ان مشکلات سے نبرد آزما ہیں، اس پس منظر میں جب ہم لانگ مارچز ، دھرنوں یا ہڑتالوں کی بات کریں تو میں صرف یہی کہوں گا کہ اس ہماری معاشی ترقی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے پلاننگ کمیشن اکنامک ونگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے محنت ، مشکل فیصلوں اور مسلسل کوششوں سے جواقتصادی ترقی کیلئے معاشی استحکام کا سفر شروع کیا ، اگر احتجاج ،دھرنے ،سڑکوں اور کاروبار کی بندش سے معاشی سرگرمیوں کی بندشیں کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی اس کا تجربہ کیا ہے اور اس وقت کے جو حالات ہیں ان کے پیش نظر جو تخمینہ لگایا ہے اس کے مطابق اس سے قومی معیشت کو یومیہ تقریبا ً 120 ارب روپے کا نقصان ہوگا ، شعبہ جاتی حوالے سے سروسز سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہو گا ،فائنانشل سروسز ، کمیونیکیشنز سروسز، ٹرانسپورٹ ریٹیل، ہول سیل اور ہاسپٹلٹی کے شعبوں کو اس میں تقریبا ً86 ارب روپے یومیہ نقصان کا اندیشہ ہے ،اسی طرح جب ہم صنعتی شعبے کی بات کریں تو اس سے شعبے کو تقریبا ً25 ارب روپے روزانہ کا نقصان ہو سکتا ہے جبکہ کنسٹرکشن ، خام مال، سپلائی چین کو تقریباً 9 ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے .
جس میں ٹرانسپورٹیشن ، جلد خراب ہونے والی مصنوعات ، ڈیری مصنوعات، زرعی سپلائی چین سب شامل ہیں، اس سے قومی معیشت کو تقریباً 120 ارب روپے یومیہ کے نقصانات کا خدشہ ہے۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالیاتی ڈسپلن اور ٹیکس محصولات کے حوالہ سے کہا کہ اس میں بہت بڑا کردار ایف بی ار کا ہے جو ٹیکس ریونیوز کا بنیادی عنصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹیکس محصولات میں پچھلے دو سال میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایف بی آر محصولات میں تقریبا ً18 ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے، اگر معاشی سرگرمیوں میں مشکل پیش آتی ہے تو قومی خزانے پر بوجھ بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی اور پائیدار اقتصادی استحکام کیلئے کاروباری شعبے کی سرگرمیوں میں تعطل سے نقصان کا اندیشہ ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں سال برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر ہے جس میں تقریباً 6 فیصد اضافہ متوقع ہے اور رواں مالی سال کے پہلے دو مہینوں کا جائزہ لیا جائے برآمدات بڑھی ہیں۔
انہوں نے گزشتہ ہڑتال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس کی معاشی ریکوری میں ایک سے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لگا ،کاروباری بندشوں سے قومی برآمدات میں یومیہ 50 فیصد تک کمی ہو جاتی ہے، اگر ہڑتالو، احتجاج اور دھرنوں کی سیاست کی گئی تو اس میں کتنا نقصان ہوگا اس کا اندازہ لگائیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مشرق وسطی، آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال سے ہم سب واقف ہیں، ہمارے ایکسپورٹر خواتین و حضرات اور کاروباری لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں اور ان پر بوجھ بڑھا ہے ۔ آئی ٹی سروسز کے حوالے سے انہوں نے کہا ہمارا ہدف 5.5 ارب ڈالر کا ہے ،جولائی اور اگست میں یومیہ تقریبا ً13 ملین ڈالر کی برآمدات کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لانگ مارچز یا دھرنوں سے کنیکٹوٹی ڈسٹرب ہوتی ہے تو مسائل سامنے آ سکتے ہیں اور ہماری آئی ٹی ایکسپورٹس تقریباً 80 فیصد تک متاثر ہوں گی جو بڑا سیٹ بیک ہوگا ۔ وفاقی وزیر خزانہ نے لانگ مارچز یا دھرنوں کے حوالے سے متنبہ کیا کہ اس سے معاشی تعطل ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے معاشی صورتحال آپ کے سامنے پیش کر دی ہے ،احتجاج اور دھرنوں سے قومی معیشت کو یومیہ 120 ارب روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے، اس کے علاوہ محصولات بھی متاثر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ گڈ ز،سروسز ایکسپورٹس متاثر ہوں گی جس کا فوری بوجھ عوام پر آئے گا اور عوام بھی متاثر ہو گی۔ اپنی گفتگو کے آخر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ احتجاج ، دھرنے اور ہڑتالیں مسائل کا حل نہیں ، مسائل کے خاتمے کیلئے ڈائیلاگ کا راستہ ہی سب سے بہتر اور مناسب ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ جو ہم جس سفر پر گامزن ہیں اس کو جاری رہنا چاہئے، معاشی استحکام سے معاشی ترقی، برآمدات میں اضافہ ، سرمایہ کاری کے فروغ کا سفر قومی معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرمایہ کاری کی بات کی جائے تو پہلی مقامی اور پھر غیر ملکی سرمایہ بڑھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کے اعتماد میں اضافے سے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھتا ہے۔ وزیر خزانہ نے پی آئی اے کی نجکاری سمیت دیگر امور کا بھی ذکر کیا جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے تمام متعلقہ فریقوں سے درخواست کی کہ ہماریجو بھی مسئلے مسائل ہیں ان کو ہم بیٹھ کر حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیر خزانہ یہ میرا فرض تھا اور ہے کہ اعداوشمار اور حقائق کے ساتھ ساتھ معیشت پر اس کے اثرات کے حوالے سے قوم کو آگاہ کروں تاکہ ہمارا معاشی سفر اسی طرح جاری و ساری رہے ۔









