آر سی ای پی

آر سی ای پی کے نفاذ کے بعد ، پہلی سہ ماہی میں تجارتی منافع کا حصول

یکم جنوری کو علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری یعنی آر سی ای پی کا نفاذ ہوا جس کے بعد تسلسل کے ساتھ تجارتی منافع حاصل ہو رہا ہے اور علاقائی اقتصادی ترقی میں نئی تحریک پیدا ہوئی ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق پہلی سہ ماہی میں، آر سی ای پی کے دیگر 14 رکن ممالک کے لیے چین کی درآمدات اور برآمدات کی کل مالیت 2.86 ٹریلین یوآن تھی، جس میں سال بہ سال 6.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

آر سی ای پی کے نفاذ کی وجہ سے، رکن ممالک کے ساتھ چین کے بہت سے صوبوں کی تجارتی ترقی بھی تیز ہوئی ہے۔ پہلی سہ ماہی میں، آر سی ای پی کے رکن ممالک کے ساتھ چین کے صوبہ ہائی نان کی تجارت میں 45.8 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، صوبہ جیانگ شی کی رکن ممالک کے ساتھ درآمدات اور برآمدات کی کل مالیت45 فیصد اضافے کے ساتھ 46.72 بلین یوآن تک پہنچ گئی ۔ گوانگ شی زوانگ قومیت کے خوداختیار علاقے میں ریل اور بحری ذرائع سے بھیجے جانے والے سٹینڈرڈ باکسز کی تعدادمیں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

آر سی ای پی کے نفاذ سےہونے والے تجارتی منافع سے خطے میں کاروباری اداروں اور صارفین کو عملی فائدہ پہنچ رہا ہے۔سرمایہ کاری کی مارکیٹ تک رسائی کو بڑھانے، ضوابط کو ہم آہنگ کرنے، کسٹم کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور ای کامرس کی ترقی کو فروغ دینے میں بھی آر سی ای پی کا فعال کردار ہے۔

چین کی وزارت تجارت کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تحقیقی مرکز برائے علاقائی اقتصادی تعاون کے ڈائریکٹر جیانگ جیان پھنگ نے کہا کہ آر سی ای پی کے اقتصادی اور تجارتی قواعد 21ویں صدی میں بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے اصول و قواعد کی سمت کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس سے 15 معیشتیں قریبی تعاون پر مبنی تعلقات استوار کر سکتی ہیں اور ایشیا و بحرالکاہل کی معیشت کے ” ریل کے انجن” کی حیثیت کے حامل کردار کو استعمال میں لایا جائے گا اور عالمی معیشت کی بحالی اور ترقی کے لیے نئی خدمات سرانجام دی جا سکیں گی۔