آئی جی ،سی سی پی او

آئی جی ،سی سی پی او کی تقرری کے معاملے پر سماعت 14 ستمبر تک ملتوی

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی اور سی سی پی او کی تقرری کے معاملے پر سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت کودرخواست پر عائد اعتراضات پر دلائل کے لیے بحث کرنے کی ہدایت کر دی ۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے مسلم لیگ(ن) کے رہنما ملک محمد احمد خان کی درخواست پر سماعت کی ۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے استفسار کیا ملک احمد خان صاحب آپ وکیل ہیں ؟ جس پر انہوں نے جواب دیا جی میں وکیل ہوں۔

فاضل عدالت نے کہا کہ استفسار کیا شعیب دستگیر نے عدالت میں کھڑے ہو کر کہا کہ ہر قانون پر عمل نہیں ہوسکتا، ایسے افسر کو بچانے کیلئے آپ لاہور ہائیکورٹ آگئے ،کیا ایسا پولیس افسر اپنی پولیس کی کمانڈ کر سکتا ہے؟۔ جس پر درخواست گزار نے کہا ہم شعیب دستگیر کو بچانے نہیں آئے بلکہ ہم قانون پر عملداری چاہتے ہیں۔ دوران سماعت سرکاری کیل نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 212 کے تحت ایسے معاملات اعلی عدالتوں میں نہیںلائے جا سکتے جبکہ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل کے لیے مہلت طلب کی گئی ۔

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ عدالت کی نظر میں سب برابر ہیں، ہماری نظر میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ آئی جی پنجاب کے تبادلے کا نوٹیفیکیشن غیر قانونی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میری نظر میں تمام پارلیمنٹرینز قابل احترام ہیں، آرٹیکل 212 کے تحت ٹرانسفر ،پوسٹنگ کے معاملات براہ راست اعلی عدالتوں میں نہیںلا ئے جا سکتے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں، ٹرانسفر ، پوسٹنگ کا معاملہ یہاں نہیں لایا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے سرکاری وکیل پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنچایت لگانی ہے تو باہر جا کر کریں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا آپ نے اسمبلی قرار داد کے ذریعے پٹیشن دائر کرنے کی اجازت لی۔ درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ میں اسمبلی ممبر کے طور پر متاثرہ فریق ہوں، جس طرح تبادلہ کیا گیاوہ انصاف کی صریحاًخلاف ورزی ہے، پولیس آرڈر اس طرح تبادلوں کی اجازت نہیں دیتا، پولیس سیفٹی کمیشن اور پولیس آرڈر 136 کے ذریعے اس طرح کے تبادلوں کی گنجائش نہیں ،اس تبادلے سے میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ،میں قانون کی حکمرانی کے لیے عدالت آیا ہوں۔