چین 14

ہر قوم کا اپنا آسمان ہونا چاہیے: چین کی جانب سے “ہیروز ” کی نئی تعریف سے ملنے والا سبق

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) حالیہ دنوں میں ، اگر آپ چین کے کچھ شہروں، جیسے کہ صوبہ شانڈونگ کے شہر ژیبو کے مرکزی کاروباری علاقوں میں جائیں، تو آپ ایک تبدیلی نوٹ کر سکتے ہیں: وہ اشتہاری جگہیں جہاں کبھی فلمی ستاروں اور پاپ گلوکاروں کے پوسٹر لگے ہوتے تھے،

انہیں ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ “چین کے خلائی پروگرام کے بانی” چھین شیوے سن ، “ہائبرڈ چاول کے خالق ” یوان لونگ پھنگ اور سرحدوں کی حفاظت پر مامور فوجی ہیروز جیسے قومی ہیروز کی قد آور تصاویر نظر آتی ہیں ۔ چین میں سوشل میڈیا پر اس اقدام کو بے پناہ پذیرائی ملی ہے، کیونکہ اس نے ایک ایسے دور جہاں سرمایہ اور تجارتی مفادات ہر شعبے پر اثر انداز ہو رہے ہیں ،ایک اہم سوال کو پھر سے اجاگر کر دیا ہے ۔وہ سوال یہ ہے کہ ایک تہذیب، ایک قوم اور ایک ملک کو آخر کن لوگوں کو اپنے اجتماعی شعور اور قومی وقار کی بلند ترین سطح پر رکھنا چاہیے؟

آج دنیا بھر میں ، “اسٹارز ” کی شناخت پر تقریباً مکمل طور پر تفریحی صنعت کی اجارہ داری ہے۔ دنیا بھر کے سوشل میڈیا کے ٹرینڈنگ ٹاپکس دیکھیں، تو سرخیوں میں اکثر کسی گلوکار کے نئے معاشقے ، یا کسی اداکار کے فیشن اور طرز زندگی کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ کوئی اتفاقیہ بات نہیں ہے؛ موجودہ کمرشل مارکیٹ کی منطق کے تحت،”اسٹارز ” ایجنسیوں اور فین کلچر کی مشترکہ پیداوار ہوتے ہیں، اور ہالی ووڈ اس نظام کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ جب دنیا بھر کے ناظرین اسی نظام کو معیار ماننے لگیں، تو یہ تہذیبوں کا باہمی تبادلہ نہیں، بلکہ ایک خاموش ذہنی انحصار بن جاتا ہے: آپ پر کوئی چیز زبردستی مسلط نہیں کی جاتی، بلکہ “تفریح” کے اس عمل کے دوران آہستہ آہستہ آپ اپنی ہی تہذیب کے ہیروز کو بھولنے لگتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی اس پیٹرن پر غور کیا ہے؟ ایک غیر مغربی ملک کا ادیب، ہدایت کار یا سائنسدان، جو اپنی پوری زندگی اپنے وطن میں محنت کرتا ہے، وہ اکثر “نظر انداز” ہی رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اسے مغرب کا کوئی بڑا ایوارڈ مل جاتا ہے، اچانک اسے اپنے ہی ملک میں “دریافت” کر لیا جاتا ہے، اور وہ اپنے ہی ملک کا ” اسٹار ” بن جاتا ہے۔ میڈیا اس کے بارے میں خصوصی مضامین شائع کرنے لگتا ہے، لوگ اس کے بارے میں باتیں کرنے لگتے ہیں، اور حکومت اسے اعزازات دینے لگتی ہے۔

یہ گویا ایک مفروضہ ہے کہ کوئی شخص صرف تب ہی اپنے ہم وطنوں کے احترام اور پسندیدگی کا مستحق ٹھہرتا ہے، جب اسے “مغربی سند” مل جائے۔ میں مغربی ایوارڈز کی سطح سے انکار نہیں کرتا، لیکن “دوسروں کی تصدیق” کے اس رجحان کا بنیادی جوہر ایک طرح کی ذہنی نو آبادیات ہے۔ اس کا پس پردہ پیغام یہ ہے کہ ہماری نظر اتنی پختہ نہیں ہے، ہمارا معیار کافی نہیں ہے، ہم خود فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کون بہتر ہے، ہمیں انتظار کرنا پڑے گا کہ مغرب ہمارے لیے کسی پر مہر لگائے، تب جا کر ہم یقین کریں گے۔

چین بھی اس مرحلے سے گزرا ہے، اور میرے خیال میں ابھی بھی اس سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلا ہے۔ تو پھر ” اسٹار ” کیا ہے؟ اور “قومی جذبے کا امین” کون ہے؟ ژیبو کے ان بینرز کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ چین اپنی طرف سے اس کا جواب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔کسی قوم کے روحانی نمائندے کے طور پر “اسٹارز ” کی شناخت کا معیار صرف تجارتی اہمیت، انٹرنیٹ ٹریفک جسے عام زبان میں ویوز کہتے ہیں یا مغربی ایوارڈز کا حصول نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے پیمانے تین ہونے چاہئیں:

پہلا، تاریخی پیمانہ: کہ کیا وہ قومی سطح کے نازک لمحات میں اپنے کندھوں پر ذمہ داری اٹھانے والا شخص ہے؟ چھین شیوے سن نے امریکہ کی بہترین پیش کشوں کو ٹھکرا کر واپس اپنے ملک آ کر ملک کے لیے کام کیا، اور یوان لونگ پھنگ نے اپنی تحقیق کو تجربہ گاہ سے کھیتوں تک پہنچایا اور کروڑوں لوگوں کو بھوک سے بچایا۔ ان کی خدمات نے آزمائش کے وقت قوم کو سربلندی بخشی ، ان کی خدمات زمانے کی قید سے ماورا ہیں اور انہیں کسی “بیرونی تصدیق” کی ضرورت نہیں ۔
دوسرا، اخلاقی پیمانہ: کہ کیا اس کی جدوجہد کا مقصد ذاتی مفاد اور منافع بخش کاروبار ہے یا عوامی بہبود؟ ” کمرشل اسٹارز کا مقصد “صرف کھپت” (To be consumed) ہے، جبکہ قومی خدمت گاروں کی شخصیت کی قدر اس بات میں ہے کہ معاشرہ ان کی ضرورت کو محسوس کرے ۔

تیسرا، نسل در نسل اثر کا پیمانہ: کہ کیا وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روحانی بنیاد کا کام دے سکتا ہے، جس سے مختلف ادوار کے لوگ جب ایک ہی نام لیں، تو ان کے ذہنوں میں ایک ہی قدر کا تصور ابھرے۔

ژیبو اور دیگر چینی شہروں کے اس اقدام کی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس نے اکثر نظر انداز کیے جانے والے ایک اصول کو اجاگر کیا ہے: عوامی مقامات کا تعلق پوری قوم سے ہوتا ہے، انہیں مکمل طور پر تجارتی سرمائے کے ہاتھ نیلام نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف تجارتی جگہیں نہیں ہیں، بلکہ روحانی تربیت کے مراکز بھی ہیں۔

جب کسی معاشرے کی بصری ترجیحات مکمل طور پر تجارتی اشتہارات نے گھیر رکھی ہوں، تو نوجوانوں کی نظر میں “کامیابی” کی صرف ایک ہی تعریف بچتی ہے ، دیکھا جانا، کھپت کا نشانہ بننا، اور مشہور ہو جانا ۔ چین میں حالیہ برسوں میں نافذ ہونے والے “ہیروز اور شہداء کے تحفظ کا قانون” اور متعلقہ عوامی مہمات کے ذریعے، اس بات کو ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے کہ عوامی بصری حقوق کو سرمایہ کاری منطق کی اجارہ داری نہیں بننا چاہیے۔ تجارتی منطق چلے گی، لیکن عوامی افق پر ہمارے روحانی نشانات کے لیے مناسب جگہ چھوڑی جانی چاہیے۔

ایک قوم کی روحانی آزادی، اس کی علاقائی سالمیت کے برابر اہم ہے۔ تاریخ بار بار ثابت کر چکی ہے کہ اگر سر زمین محفوظ رہے لیکن قوم کا اجتماعی شعور اور روحانی شناخت کمزور پڑ جائے تو زمین تو باقی رہتی ہے مگر لوگ اپنی تہذیبی شناخت سے دور ہو کر کسی اور کے ہو جاتے ہیں ۔ اگر کسی ملک کے پاس اپنا آسمان نہیں ہوگا، اور نوجوان سر اٹھا کر دیکھیں تو انہیں ہر طرف صرف دوسروں کے “اسٹارز ” نظر آئیں گے، تو روحانی آزادی کا تصور ہی ختم ہو جائے گا، اور وہ دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر بات بھی نہیں کر سکیں گے۔

کسی ملک کے قومی اور روحانی افق پر انہی لوگوں کے نام روشن ہونے چاہئیں جنہوں نے اپنی زندگیاں مادر وطن کی مٹی کے لیے وقف کیں اور تاریخ کے سنہری اوراق پر اپنا نام درج کیا ۔ یہ اصول صرف چین کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس سے ہر اس قوم کو فائدہ مل سکتا ہے جو اپنی شناخت کھونا نہیں چاہتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں