سعید غنی 12

محسن نقوی نے کہا صوبے بنیں گے یا نوکری جائے گی تو نوکری ہی جائے گی، سعید غنی

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ”صوبے بنیں گے یا ان کی نوکری جائے گی” تو میرے خیال میں ان کی نوکری ہی جائے گی۔

سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نئے صوبوں کے قیام کے خلاف ہیں تو انہیں اسمبلی میں موجود رہ کر اس مؤقف کا اظہار کرنا چاہیے تھا، لیکن ووٹنگ کے موقع پر دونوں جماعتوں کے ارکان اسمبلی سے باہر چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو دیکھنا چاہیے کہ کون سی سیاسی جماعت کھل کر ان کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے اور کون سڑکوں پر ایک مؤقف اختیار کرتی ہے جبکہ اسمبلی جیسے مؤثر فورم پر پہنچ کر پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان برملا کہتے ہیں کہ وہ صوبوں کی تقسیم کے حق میں نہیں، تاہم جب اس مؤقف کے عملی اظہار کا موقع آیا تو وہ اسمبلی سے باہر چلے گئے۔سعید غنی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے رکن نے بھی ووٹنگ کے دوران اسمبلی سے باہر رہنے کا طریقہ اختیار کیا۔

عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ کون ان کے ساتھ مخلص ہے اور کون سڑکوں پر کچھ اور جبکہ اسمبلی میں کچھ اور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی حمایت کے حوالے سے انہیں نہ کوئی فون آیا اور نہ کسی حکومتی رکن نے ایسی کوئی اطلاع دی۔وزیر محنت سندھ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے اس بیان پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس میں پاکستان کو بیرونی ممالک سے خطرہ نہ ہونے کی بات کی گئی تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی حالات میں بیرونی ممالک کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، افغانستان، بھارت اور دیگر عناصر کے حوالے سے دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی مداخلت کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، جبکہ پنجاب بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہا۔ ایسے حالات میں بیرونی خطرات کو مکمل طور پر مسترد کرنا مناسب نہیں۔

دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور ان کے ممکنہ بیرونی روابط کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔سعید غنی نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سندھ کے دورے سے متعلق سوال پر کہا کہ وہ گزشتہ دو، تین روز سے سندھ میں موجود ہیں اور بذریعہ سڑک مختلف علاقوں کا دورہ کررہے ہیں۔ اگر حکومت انہیں روکنا چاہتی تو سندھ میں داخل ہی نہ ہونے دیتی، تاہم انہیں کہیں نہیں روکا گیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں شارع قائدین پر جلسے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم وہاں جلسے کی اجازت ماضی میں بھی نہیں دی گئی۔

حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ جلسے گراؤنڈ یا کھلی جگہوں پر منعقد ہوں تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔وزیر محنت سندھ نے کہا کہ اگرسہیل آفریدی شارع قائدین کی جانب آنا چاہتے تھے تو ممکن ہے اسی وجہ سے بعض راستے بند کیے گئے ہوں، تاہم انہیں سندھ میں داخل ہونے یا صوبے کا دورہ کرنے سے نہیں روکا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں