جسٹس شاہدکریم 71

کینال روڈ پر درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی’ لاہور ہائیکورٹ

لاہور ( رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق کیس میں درخت کاٹنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم جاری کر دیا ، جسٹس شاہدکریم نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں پر مقدمہ درج اور توہین عدالت کارروائی ہو گی۔

جسٹس شاہدکریم نے اسموگ کے تدارک سے متعلق دائر مختلف درخواستوں پر سماعت کی جس کے دوران ماحولیاتی تحفظ، پانی کے مسائل اور شہری منصوبہ بندی سے متعلق متعدد اہم نکات زیر بحث آئے ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل حسن اعجاز چیمہ عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس شاہد کریم نے محکمہ ماحولیات کی نئی فورس کی غیر فعالیت پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کارروائی نہ کرنے پر رپورٹ طلب کر لی۔

سماعت کے دوران واسا کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 10ہزار واٹر میٹرز کی خریداری شروع ہو چکی ہے اور مزید 2لاکھ میٹرز سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں۔لاہور میں جلد پانی کے میٹرز نصب کیے جائیں گے، انہوں نے پانی کا میٹر بطور سیمپل عدالت کے روبرو بھی پیش کیا، عدالت نے واسا کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ پانی کا مسئلہ ہم سب کے سامنے ہے، یہ ایک بہت اچھی پیش رفت ہے، وکیل واسا نے مزید بتایا کہ پہلے مرحلے میں یہ میٹرز کمرشل جگہوں پر نصب کیے جائیں گے۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ کینال پر ییلو ٹرین منصوبے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے جس سے درختوں کے کاٹے جانے کا خدشہ ہے، تاہم عدالت نے دوٹوک مقف اپناتے ہوئے اس خدشے کو مسترد کر دیا۔عدالت نے واضح کیا کہ کینال روڈ پر ییلو لائن ٹرین منصوبہ بنایا گیا تو نہر پر درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ کینال ہیریج ایکٹ کسی قسم کے درخت کاٹنے سے روکتا ہے،لاہور میں درختوں کی خوبصورتی صرف کینال پر ہی باقی ہے۔

عدالت نے لاء افسر کو ہدایت کی کہ آپ کینال روڈمنصوبہ کے بارے میں آئندہ سماعت پررپورٹ دیں۔ماحولیاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق کینال ویو ہائوسنگ سوسائٹی نے سولر پینلز کی تنصیب کے لیے درخت کاٹے تھے، جس پر ایکشن لیا گیا اور سوسائٹی میں مزید درخت لگا دیے گئے ہیں۔عدالت نے ماحولیاتی فورس، کینال ویو ہائوسنگ اور واسا سمیت مختلف اداروں سے پیشرفت رپورٹس طلب کر لی۔ ممبر ماحولیاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت وارڈنز کو رسک الائونس نہیں دینا چاہتی ،وارڈنز کو رسک الائونس دینے پر 3ارب سالانہ خزانہ پر بوجھ ہوگا۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ حکومت کی صوابدید ہے۔محکمہ ماحولیات سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کی اتنی بھرتیاں ہوئیں لیکن سڑکوں پر ان کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی، دھواں دیتی گاڑیاں سڑکوں پر چل رہی ہیں لیکن ماحولیات کی نئی فورس نظر نہیں آ رہی۔عدالت نے سڑکوں پر دھواں چھوڑتی گاڑیوں کے خلاف کارروائی پر زور دیتے ہوئے محکمہ ماحولیات سے میدانی ٹیموں کی تعیناتی کی رپورٹ طلب کر لی۔

عدالت نے گندہ پانی چھوڑنے والی فیکٹریوں کو کم از کم ہر 6ماہ بعد محکمہ ماحولیات کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار خاتون نے ٹولٹن مارکیٹ سے جانوروں کی منتقلی کے حوالے سے تجاویز پیش کیں ۔عدالت نے تمام متعلقہ فریقین سے رپورٹس طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 27جون تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں