کراچی(رپورٹنگ آن لائن) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی نے ہمیشہ ملک بھر سے آنے والے لوگوں کو روزگار فراہم کیا ہے اور قومی معیشت میں اس شہر کی اہمیت کے پیش نظر وفاقی حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کراچی کے ساتھ تعاون کرے، تاہم افسوس ہے کہ وفاق کی جانب سے شہر کو وہ تعاون نہیں ملتا جس کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ تاحال پاکستان پیپلز پارٹی کے سامنے نہیں آیا، جب مسودہ پیش ہوگا تو پارٹی اس کا جائزہ لے کر اپنا مؤقف دے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان فرسٹ فرنیچر ٹریڈ شو 2026 کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان فرنیچر ایسوسی ایشن کے نائب صدر محمد حسیب، ڈپٹی سیکریٹری خرم شیخ، سینئر نائب صدر رانا وحید، آرگنائزر راشد انصاری، سید محمد اصغر اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔سعید غنی نے کہا کہ پاکستان میں فرنیچر کی صنعت ایک بڑی صنعت ہے اور اس میں کراچی کا کردار نمایاں ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں فرنیچر نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہے، اس صنعت کو مزید فروغ دے کر نہ صرف مقامی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں بلکہ فرنیچر برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاجروں اور صنعت کاروں کے ساتھ تعاون کریں، کیونکہ پاکستان میں تیار ہونے والا فرنیچر دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق فرنیچر کی صنعت ملکی معیشت اور برآمدات کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ پاکستان فرنیچر ایسوسی ایشن نے گزشتہ سال ”فرسٹ ایکسپو آزادی” کے نام سے نمائش کا انعقاد کیا تھا، جبکہ رواں سال اس کا دوسرا ایڈیشن علامہ اقبال کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ گزشتہ سال نمائش میں 150 اسٹالز لگائے گئے تھے، جبکہ اس سال اسٹالز کی تعداد بڑھ کر تقریباً 200 ہوگئی ہے۔ انہوں نے مقامی فرنیچر تیار کرنے والوں کی بڑی تعداد میں شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کراچی کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نمائش میں آکر اس سے فائدہ اٹھائیں۔کراچی کے مسائل اور وفاقی حکومت کے تعاون سے متعلق سوال پر سعید غنی نے کہا کہ کراچی جیسا بڑا شہر پورے ملک کو سہارا دیتا ہے اور یہاں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے افراد کو روزگار ملتا ہے۔ اس اہمیت کے باعث وفاقی حکومت پر بھی شہر کے لیے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، تاہم ان کے بقول وفاق کی جانب سے کراچی کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساتھ ناانصافی کی بحث کئی برس سے جاری ہے۔
ناتھا خان کے علاقے میں سڑک کی تعمیر سے متعلق سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ متعلقہ سڑک ریلوے کی زمین پر واقع تھی، تاہم کے ایم سی نے پہلے سے عوام کے استعمال میں موجود راستے کو سڑک کی صورت دے کر شہریوں کی سہولت میں اضافہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی کام جاری تھا، لیکن ریلوے وفاقی حکومت کا ادارہ ہے اور کے ایم سی سندھ حکومت کے محکمہ بلدیات کا ادارہ ہے۔ دونوں سرکاری اداروں کے درمیان اختلافات سے کام متاثر ہوتا ہے، اس لیے معاملے کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ ترقیاتی کام جلد مکمل ہوسکے۔ ان کے مطابق اگر ریلوے کو اس سڑک پر اعتراض تھا تو اسے پہلے ہی راستہ بند کردینا چاہیے تھا، تاہم واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔حیدرآباد میں سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبوں کی موجودگی کے معاملے پر سعید غنی نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر کا فیصلہ طویل عرصے بعد کیا گیا ہے اور وہاں نصب بجلی کے کھمبے عام نوعیت کے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سڑک پر پہلے بھی ٹریفک چلتا تھا اور کھمبے درمیان میں موجود تھے۔
جب حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (ایچ ایم سی) نے سڑک کا منصوبہ شروع کیا تو حیسکو کو کھمبے ہٹانے کے لیے درخواست دی گئی۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سڑک کی مکمل تعمیر ابھی نہیں ہوئی، بلکہ صرف انتہائی مخدوش حصوں کی عارضی مرمت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق سڑک کی باقاعدہ اور مکمل تعمیر بجلی کے کھمبے ہٹائے جانے کے بعد کی جائے گی، تاہم اس معاملے کو بھی ایک الگ رنگ دے دیا گیا ہے۔28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر سعید غنی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تاحال کوئی مسودہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسودہ موصول ہونے کے بعد پارٹی اس پر غور و خوض کرے گی اور اپنا مؤقف دے گی۔ اگر ترمیم ملک کی بہتری کے لیے ہوئی تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی، جبکہ اس میں کسی خامی کی نشاندہی ہوئی تو اس پر بھی بات کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آئین میں ایسی ہر ترمیم کی حمایت کرتی ہے جس سے ملک جمہوری اور معاشی طور پر مضبوط ہو۔









